صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
23. باب المسح على الناصية والعمامة:
باب: پیشانی اور پگڑی پر مسح کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 275 ترقیم شاملہ: -- 637
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ بِلَالٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَالْخِمَارِ "، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، حَدَّثَنِي بِلَالٌ.
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے، انہوں نے حکم سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر اور سر ڈھانپنے والے کپڑے پر مسح کیا۔ عیسیٰ کی حدیث میں ”حکم سے (روایات کی)“ اور ”بلال سے روایت کی“ کے بجائے مجھے حکم نے حدیث سنائی اور مجھے بلال نےحدیث سنائی“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 637]
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور پگڑی پر مسح کیا۔ عیسیٰ رحمہ اللہ کی حدیث میں «عن الحكم» اور «عن بلال» کی جگہ «حدثني الحكم، حدثني بلال» ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 637]
ترقیم فوادعبدالباقی: 275
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 275 ترقیم شاملہ: -- 638
وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم.
اور یہی روایت مجھ (امام مسلم) کو سوید بن سعید نے علی بن مسہر سے اور انہوں نے اعمش سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ بیان کی۔ اس میں «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم» (یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) کے بجائے «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم» (میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 638]
اور یہی روایت مجھے سوید بن سعید رحمہ اللہ نے علی بن مسہر رحمہ اللہ کے واسطہ سے اعمش رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند کے ساتھ سنائی، اس میں «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم» کی بجائے «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم» ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 638]
ترقیم فوادعبدالباقی: 275
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة