صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
47. باب من فضائل غفار واسلم وجهينة واشجع ومزينة وتميم ودوس وطيئ:
باب: قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ، اشجع، مزینہ، تمیم، دوس اور طی کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2520 ترقیم شاملہ: -- 6439
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُرَيْشٌ، وَالْأَنْصَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ".
سفیان (بن سعید) نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ہرمز اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش، انصار، مزینہ، جہینہ، اسلم، غفار اور اشجع (میرے) مددگار ہیں اور ان کا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی اور مددگار نہیں ہے۔“ (انہیں خالصتاً اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت حاصل ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6439]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش، انصار، مزینہ، جہینہ، اسلم، غفار اور اشجع میرے معاون ہیں اور ان کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی سرپرست و کارساز نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6439]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2520
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2520 ترقیم شاملہ: -- 6440
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ سَعْدٌ فِي بَعْضِ: هَذَا فِيمَا أَعْلَمُ.
عبیداللہ بن معاذ کے والد نے کہا: ہمیں شعبہ نے سعد بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی، مگر اس حدیث میں یہ ہے کہ سعد نے ان میں سے بعض قبائل کے بارے میں کہا: ”میرے علم کے مطابق۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6440]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہ روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس حدیث میں سعد بن ابراہیم نے بعض قبائل کے لیے جزم کی بجائے «فِيْمَا أَعْلَمُ» ”میرے علم کی حد تک“ کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6440]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2520
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة