صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب في صفات الجنة واهلها وتسبيحهم فيها بكرة وعشيا:
باب: جنت اور اہل جنت کی صفات اور ان کی صبح و شام کی تسبیحات کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2835 ترقیم شاملہ: -- 7152
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا، وقَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ، وَلَا يَتْفُلُونَ، وَلَا يَبُولُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ "، قَالُوا: فَمَا بَالُ الطَّعَامِ؟، قَالَ: " جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ "،
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اہل جنت وہاں کھائیں گے پئیں گے۔ لیکن نہ اس میں تھوکیں گے نہ پیشاب کریں گے، نہ رفع حاجت کریں گے اور نہ ناک سنکیں گے“۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے پوچھا: تو ان کے کھانے کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ڈکار (آئے گی) اور کستوری کے پسینے کی طرح پسینہ آئے گا۔ ان کو تسبیح اور حمد (کے نغمے) اسی طرح (فطرت کے اندر) الہام کر دیے جائیں گے، جس طرح سانس کو الہام (کر کے ان کی فطرت میں شامل) کر دیا جاتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7152]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اہلِ جنت، جنت میں کھائیں گے بھی اور پیئیں گے بھی لیکن نہ تو انہیں تھوک آئے گا اور نہ پیشاب اور پاخانہ ہو گا اور نہ وہ ناک صاف کریں گے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: تو کھانے کا کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈکار ہو گی اور کستوری کے پسینے کی طرح پسینہ ہو گا، یعنی غذا ڈکار اور پسینے سے ہضم ہو جائے گی اور بس، اللہ کی تسبیح و تحمید ان کی زبانوں پر اس طرح جاری ہو گی، جس طرح سانس جاری رکھا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7152]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2835
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2835 ترقیم شاملہ: -- 7153
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِبِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَى قَوْلِهِ كَرَشْحِ الْمِسْكِ.
ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ”کستوری کے پسینے کی طرح“ تک روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7153]
امام صاحب یہی حدیث دو اور اساتذہ سے «رَشْحَ الْمِسْكِ» ”کستوری کے پسینہ کی طرح“ تک بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7153]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2835
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2835 ترقیم شاملہ: -- 7154
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ حَسَنٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبُولُونَ، وَلَكِنْ طَعَامُهُمْ ذَاكَ جُشَاءٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ "، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ حَجَّاجٍ: طَعَامُهُمْ ذَلِكَ،
حسن بن علی حلوانی اور حجاج بن شاعر دونوں نے مجھے ابوعاصم سے روایت کی۔ حسن نے کہا: ہمیں ابوعاصم نے حدیث بیان کی، کہا: ابن جریج سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت اس میں کھائیں اور پئیں گے، (لیکن) وہ اس میں رفع حاجت کریں گے نہ ناک سنکیں گے، نہ پیشاب کریں گے، البتہ ان کا کھانا ڈکار (کی شکل میں تحلیل) ہو جائے گا، جو مشک کی طرح خوشبو دار ہو گی۔ انھیں (خود بخود) اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد کرنا الہام کیا جائے گا جس طرح انھیں (خود بخود) سانس لینا الہام کیا گیا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7154]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ جنت، جنت میں کھائیں پئیں گے، لیکن نہ پاخانہ کریں گے، نہ تھوکیں گے اور نہ پیشاب آئے گا، لیکن ان کا کھانا وہ خوش گوار ڈکار کی صورت میں ہو گا، جس سے کستوری کی خوشبو آئے گی، انہیں تسبیح اور حمد اس طرح القا کی جائے گی، جس طرح سانس کا الہام کیا جاتا ہے۔“ حجاج کی حدیث میں ہے: ”ان کا یہ کھانا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7154]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2835
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2835 ترقیم شاملہ: -- 7155
وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ لنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّكْبِيرَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ.
یحییٰ نے کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (حدیث) روایت کی، مگر انہوں نے کہا: ”اور انھیں تسبیح و تکبیر اسی طرح الہام کی جائے گی جس طرح سانس لینا الہام کیا جاتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7155]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت اس فرق کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں «تسبیح و تکبیر» اس طرح الہام کی جائے گی، جس طرح انہیں سانس الہام کیا جاتا ہے،“ یعنی «تسبیح و تکبیر» سانس کی طرح ہر دم زبانوں پر جاری ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7155]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2835
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة