🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب عقوبة من يامر بالمعروف ولا يفعله وينهى عن المنكر ويفعله:
باب: جو شخص اوروں کو نصحیت کرے اور خود عمل نہ کرے اس کا عذاب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2989 ترقیم شاملہ: -- 7483
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: أَلَا تَدْخُلُ عَلَى عُثْمَانَ فَتُكَلِّمَهُ، فَقَالَ: أَتَرَوْنَ أَنِّي لَا أُكَلِّمُهُ إِلَّا أُسْمِعُكُمْ، وَاللَّهِ لَقَدْ كَلَّمْتُهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ، مَا دُونَ أَنْ أَفْتَتِحَ أَمْرًا لَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ، وَلَا أَقُولُ لِأَحَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ أَمِيرًا، إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُلْقَى فِي النَّارِ، فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِهِ، فَيَدُورُ بِهَا كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِالرَّحَى، فَيَجْتَمِعُ إِلَيْهِ أَهْلُ النَّارِ، فَيَقُولُونَ يَا فُلَانُ: مَا لَكَ أَلَمْ تَكُنْ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟، فَيَقُولُ: بَلَى، قَدْ كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ "،
ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ ان سے کہا گیا: تم کیوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر بات نہیں کرتے؟ (کہ وہ لوگوں کی مخالفت کا ازالہ کریں) تو انہوں نے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں تمھیں نہیں سنواتا تو میں ان سے بات نہیں کرتا؟ اللہ کی قسم! میں نے ان سے بات کی جو میرے اور ان کے درمیان تھی اس کے بغیر کہ میں کسی ایسی بات کا آغاز کروں جس میں سب سے پہلے دروازہ کھولنے والا میں بنوں۔ میں کسی سے جو مجھ پر امیر ہو یہ نہیں کہتا کہ وہ سب انسانوں میں سے بہتر ہے۔ اس بات کے بعد جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، آپ فرما رہے تھے: قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور آگ میں پھینک دیا جائے گا، اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل پڑیں گی۔ وہ ان کے گرد اس طرح چکر لگائے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد لگاتا ہے۔ اہل جہنم اس کے پاس جمع ہو جائیں گے اور اس سے کہیں گے: فلاں! تمھارے ساتھ کیا ہوا؟ کیا تو نیکیوں کی تلقین اور برائیوں سے منع نہیں کیا کرتا تھا؟ وہ کہے گا: ایسا ہی تھا، میں نیکیوں کا حکم دیتا تھا، خود (نیکی کے کام) نہیں کرتا تھا اور برائیوں سے روکتا تھا اور خود ان کا ارتکاب کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7483]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ان سے کہا گیا: تم کیوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر بات نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں تمہیں نہیں سنواتا تو میں ان سے بات نہیں کرتا؟ اللہ کی قسم! میں نے ان سے بات کی جو میرے اور ان کے درمیان تھی اس کے بغیر کہ میں کسی ایسی بات کا آغاز کروں جس میں سب سے پہلے دروازہ کھولنے والا میں بنوں۔ میں کسی سے جو مجھ پر امیر ہو یہ نہیں کہتا کہ وہ سب انسانوں میں سے بہتر ہے، اس بات کے بعد جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور آگ میں پھینک دیا جائے گا، اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل پڑیں گی۔ وہ ان کے گرد اس طرح چکر لگائے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد لگاتا ہے۔ اہل جہنم اس کے پاس جمع ہو جائیں گے اور اس سے کہیں گے: اے فلاں! تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ کیا تو نیکیوں کی تلقین اور برائیوں سے منع نہیں کیا کرتا تھا؟ وہ کہے گا: ایسا ہی تھا، میں نیکیوں کا حکم دیتا تھا اور خود نہیں کرتا تھا، اور برائیوں سے روکتا تھا اور خود ان کا ارتکاب کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7483]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2989
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2989 ترقیم شاملہ: -- 7484
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْخُلَ عَلَى عُثْمَانَ فَتُكَلِّمَهُ فِيمَا يَصْنَعُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ.
جریر نے اعمش سے اور انہوں نے ابووائل سے روایت کی، کہا: ہم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ایک آدمی نے کہا: آپ کو کیا چیز اس سے مانع ہے کہ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں اور جو وہ کر رہے ہیں اس کے بارے میں ان سے بات کریں؟ اس کے بعد اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7484]
ابووائل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے، تو ایک آدمی نے کہا: کون سی چیز تمہیں اس بات سے روکتی ہے کہ آپ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں اور ان کے رویہ، طرزِ عمل کے بارے میں ان سے گفتگو کریں، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7484]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2989
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں