🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب وجوب قراءة الفاتحة في كل ركعة وإنه إذا لم يحسن الفاتحة ولا امكنه تعلمها قرا ما تيسر له من غيرها:
باب: ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا وجوب، اور جو شخص سورہ فاتحہ نہ پڑھ سکتا ہو، اس کے لیے قرآن میں اس کے علاوہ جو آسان ہو اس کوپڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 395 ترقیم شاملہ: -- 878
وحَدَّثَنَاه وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً، لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، ثَلَاثًا غَيْرُ تَمَامٍ، فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ، فَقَالَ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4، قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَقَالَ: مَرَّةً فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5، قَالَ: هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ {6} صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ {7} سورة الفاتحة آية 6-7، قَالَ: هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ "، قَالَ سُفْيَانُ: حَدَّثَنِي بِهِ الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ أَنَا عَنْهُ.
سفیان بن عیینہ نے علاء بن عبدالرحمن سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن کی قراءت نہ کی تو ناقص ہے۔ تین مرتبہ فرمایا، یعنی پوری ہی نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اس کو اپنے دل میں پڑھ لو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے اور میرے بندے نے جو مانگا، اس کا ہے۔ جب بندہ «الحمد للّٰه رب العالمین» سب تعریف اللہ ہی کے لیے جو جہانوں کا رب ہے۔ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی۔ اور جب وہ کہتا ہے: «الرحمن الرحیم» سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہمیشہ مہربانی کرنے والا۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی۔ پھر جب وہ کہتا ہے: «مالک یوم الدین» جزا کے دن کا مالک۔ تو (اللہ) فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ اور ایک دفعہ فرمایا: میرے بندے نے (اپنے معاملات) میرے سپرد کر دیے۔ پھر جب وہ کہتا ہے: «إیاک نعبدوإیاک نستعین» ہم تیری ہی بندگی کرتے اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ تو (اللہ) فرماتا ہے: یہ (حصہ) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے نے جو مانگا، اس کا ہے۔ اور جب وہ کہتا ہے: «إہدنا الصراط المستقیم صراط الذین أنعمت علیہم غیر المغضوب علیہم والا الضالین» ہمیں راہ راست دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا، نہ غضب کیے گئے لوگوں کی اور نہ گمراہوں کی۔ تو (اللہ) فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کا ہے جو اس نے مانگا۔ سفیان نے کہا: مجھے یہ روایت علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب نے سنائی، میں ان کے پاس گیا، وہ گھر میں بیمار تھے۔ میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا (تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 878]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی تو وہ ادھوری اور ناقص ہے کامل نہیں ہے۔ تین مرتبہ فرمایا: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا اس کو آہستہ پڑھ لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا، اللہ کا فرمان ہے، میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے، اور میرا بندہ جو مانگے گا اس کو ملے گا، جب انسان «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» (شکرو ثنا کا حقدار کائنات کا آقا ہے) کہتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف اور شکریہ ادا کیا، اور جب وہ «الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» (انتہائی مہربان، بار بار رحم کرنے والا) کہتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی۔ جب وہ «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» (حساب و کتاب کا مالک) کہتا ہے، اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ اور بعض دفعہ (راوی نے کہا): بندے نے معاملات میرے سپرد کر دیے یا اپنے آپ کو میرے حوالے کیا، جب انسان کہتا ہے، «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» (ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں) اللہ فرماتا ہے، یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کو جو اس نے مانگا ملے گا، اور جب وہ کہتا ہے، «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» ہمیں راہ راست پر چلائے رکھ۔ ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا، جو ان میں سے نہیں جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہ ہیں۔ اللہ فرماتا ہے، یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کو ملے گا، جو اس نے مانگا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے یہ روایت، علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب رحمہ اللہ نے سنائی، وہ اپنے گھر میں بیمار تھے، میں ان کے پاس گیا، اور میں نے ان سے، اس حدیث کے بارے میں درخواست کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 878]
ترقیم فوادعبدالباقی: 395
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 395 ترقیم شاملہ: -- 879
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مالک بن انس نے علاء بن عبدالرحمن سے روایت کی، انہوں نے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابوسائب سے سنا، کہتے تھے: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی تو ناقص ہے۔ تین مرتبہ فرمایا، یعنی پوری ہی نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 879]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی آگے مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ دونوں کی روایت میں ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کر لی ہے، اس کا آدھا حصہ میرے لیے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 879]
ترقیم فوادعبدالباقی: 395
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 395 ترقیم شاملہ: -- 880
ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى صَلَاةً فَلَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَفِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، فَنِصْفُهَا لِي، وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي.
ابن جریج نے بتایا کہ ہمیں علاء بن عبدالرحمان نے خبر دی، کہا: مجھے عبداللہ بن ہشام بن زہرہ کے بیٹوں کے آزاد کردہ غلام ابوسائب نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی ... آگے سفیان کی حدیث کے مانند ہے اور (مالک بن انس اور ابن جریج) دونوں کی روایت میں ہے: اللہ عز و جل نے فرمایا: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے، اس کا آدھا حصہ میرے لیے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 880]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی آگے سفیان رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح ہے۔ اور دونوں کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: میں نے نماز اپنے اور بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کر دی ہے اس کا آدھا حصہ میرے لیے اور آدھا حصہ میرے بندے کے لیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 880]
ترقیم فوادعبدالباقی: 395
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 395 ترقیم شاملہ: -- 881
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ أَبِي ، وَمِنْ أَبِي السَّائِبِ ، وَكَانَا جَلِيسَيْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً، لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا "، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.
اویس نے کہا: مجھے علاء نے خبر دی، کہا: میں نے اپنے والد سے اور ابوسائب سے سنا، وہ دونوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں تھے، ان دونوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی نماز ادا کی اور اس میں فاتحہ الکتاب نہ پڑھی تو وہ (نماز) ادھوری ہے۔ آپ نے تین دفعہ یہ جملہ فرمایا ... آگے مذکورہ بالا اساتذہ (مالک، سفیان، ابن جریج) کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 881]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کوئی نماز، «فَاتِحَةُ الْكِتَابِ» کے بغیر پڑھی تو وہ نامکمل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ یہ جملہ فرمایا، «فَهِيَ خِدَاجٌ» مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 881]
ترقیم فوادعبدالباقی: 395
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں