🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
205. باب انصراف النساء قبل الرجال من الصلاة
باب: نماز سے فارغ ہو کر مردوں سے پہلے عورتوں کے واپس جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1040
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مَكَثَ قَلِيلًا" وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ كَيْمَا يَنْفُذُ النِّسَاءُ قَبْلَ الرِّجَالِ.
ام المؤمنین ام سلمی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز سے) سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر ٹھہر جاتے، لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اس وجہ سے ہے تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1040]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام کہہ لیتے تو تھوڑی دیر رکے رہتے۔ اور صحابہ سمجھتے تھے کہ یہ اس لیے ہوتا تھا کہ عورتیں مردوں سے پہلے لوٹ جائیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 152 (837)، 157 (849)، 163 (866)، 167 (870)، سنن النسائی/السھو77 (1334)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 33 (932)، (تحفة الأشراف: 18289)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/296، 310، 316) (صحیح)» ‏‏‏‏ ( «وکانوا یرون أن ذلک...» مدرج اور زہری کا قول ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح خ لكنه جعل قوله وكانوا يرون مدرجا من قول الزهري
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (837)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 630
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِي أُزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ كَأَمْثَالِ الصِّبْيَانِ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اپنے تہبند تنگ ہونے کی وجہ سے گردنوں پر بچوں کی طرح باندھے ہوئے ہیں، تو ایک کہنے والے نے کہا: اے عورتوں کی جماعت! تم اپنے سر اس وقت تک نہ اٹھانا جب تک مرد نہ اٹھا لیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 630]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ کپڑوں کی تنگی کے باعث انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں اپنے تہبندوں کے پلوؤں کو اپنی گردنوں میں گرہ لگائی ہوتی تھی جیسے کہ بچوں کی ہوتی ہے، تو ایک شخص نے کہا: اے عورتو! تم مردوں سے پہلے اپنے سر نہ اٹھایا کرو۔ (کہیں کسی کے ستر پر نظر نہ پڑ جائے)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 6 (362)، والأذان 136 (814)، والعمل في الصلاة 14 (1215)، صحیح مسلم/الصلاة 29 (441)، سنن النسائی/القبلة 16 (767)، (تحفة الأشراف: 4681)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/331) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (362) صحيح مسلم (441)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 851
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَوْلًى لِأَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ كَانَ مِنْكُنَّ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا تَرْفَعْ رَأْسَهَا حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ رُءُوسَهُمْ كَرَاهَةَ أَنْ يَرَيْنَ مِنْ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، وہ اپنا سر (سجدے سے) اس وقت تک نہ اٹھائے جب تک کہ مرد نہ اٹھا لیں، اس اندیشہ سے کہ ان کی نظر کہیں مردوں کے ستر پر نہ پڑے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 851]
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے فرماتے تھے: جو تم میں سے اللہ اور یوم قیامت پر ایمان رکھتی ہے وہ اپنا سر (سجدے سے) اس وقت تک نہ اٹھائے جب تک کہ مرد نہ اٹھا لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس لیے دیا کہ کہیں ان کی نظر مردوں کے ستروں پر نہ پڑ جائے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15738)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/348، 349) (صحیح)» ‏‏‏‏ (عروہ نے اسماء کے مولی کی متابعت کی ہے اس لئے یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: ابتداء اسلام میں لوگ بڑی تنگدستی اور محتاجی میں تھے، اکثر کو ایک تہبند یا چادر کے علاوہ دوسرا کپڑا میسر نہ ہوتا تھا، جسے وہ اپنی گردن پر باندھ لیتے تھے، جو بیک وقت کرتے اور تہبند کا کام دیتا تھا، کپڑوں کی تنگی کے باعث سجدہ میں ستر کے کھل جانے کا اندیشہ رہتا تھا، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مردوں کے بعد سر اٹھانے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فيه مولي أسماء مجهول
والحديث السابق (الأصل : 630) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 44

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں