سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
231. باب الرجل يخطب على قوس
باب: کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1101
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا يَقْرَأُ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی درمیانی ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی چند آیتیں پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1101]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ درمیانہ درمیانہ ہوتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرماتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجمعة 35 (1419)، صلاة العیدین 25 (1585)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 85 (1106)، (تحفة الأشراف: 2163)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/86، 88، 93، 98، 102، 106، 107) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
ورواه مسلم (866) نحوه
ورواه مسلم (866) نحوه
حدیث نمبر: 1092
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ كَانَ يَجْلِسُ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى يَفْرَغَ أُرَاهُ قَالَ الْمُؤَذِّنُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَلَا يَتَكَلَّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کے دن) دو خطبہ دیتے تھے وہ اس طرح کہ آپ منبر پر چڑھنے کے بعد بیٹھتے تھے یہاں تک کہ مؤذن فارغ ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، پھر (تھوڑی دیر) خاموش بیٹھتے پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1092]
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر تشریف لاتے تو بیٹھ جاتے، حتیٰ کہ مؤذن اذان سے فارغ ہو جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے اور کلام نہ کرتے، پھر کھڑے ہوتے اور (دوسرا) خطبہ دیتے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7725)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 30 (928)، صحیح مسلم/الجمعة 10 (861)، سنن الترمذی/الصلاة 246 (الجمعة 11) (506)، سنن النسائی/الجمعة 33 (1417)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 85 (1103)، مسند احمد 2/98، سنن الدارمی/الصلاة 200 (1599) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (1133 ب)
عبدالوهاب بن عطاء مدلس(طبقات المدلسين 3/85) وعنعن
وحديث البخاري (928) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (1133 ب)
عبدالوهاب بن عطاء مدلس(طبقات المدلسين 3/85) وعنعن
وحديث البخاري (928) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
حدیث نمبر: 1093
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَالَ: فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کے دن) کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر (تھوڑی دیر) بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، لہٰذا جو تم سے یہ بیان کرے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو ہے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھ چکا ہوں ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1093]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے (یعنی پہلا خطبہ)، پھر بیٹھ جاتے، پھر (دوسرے کے لیے) کھڑے ہوتے اور کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے تھے، اور جو شخص تمہیں یہ بتائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے اس نے جھوٹ کہا، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 10 (862)، (تحفة الأشراف: 2156)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة 32 (1416)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 85 (1105)، مسند احمد (5/89، 90، 91، 92، 93، 94، 95، 97، 98، 99، 100، 101، 102، 107)، سنن الدارمی/الصلاة 199(1598) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان میں (۵۰) جمعے بھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھے ہیں، یہ مراد نہیں کہ میں نے دو ہزار جمعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھے ہیں، کیونکہ دو ہزار جمعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے وقت سے لے کر وفات تک بھی نہیں ہوتے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (862)
حدیث نمبر: 1094
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ كَانَ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (جمعہ کے دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوتے تھے، ان دونوں خطبوں کے درمیان آپ (تھوڑی دیر) بیٹھتے تھے، (خطبہ میں) آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1094]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوا کرتے تھے۔ آپ ان دونوں کے درمیان میں بیٹھا کرتے تھے۔ آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 10 (862)، (تحفة الأشراف: 2169) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (862)
حدیث نمبر: 1106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِقْصَارِ الْخُطَبِ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبوں میں اختصار کرنے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1106]
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو خطبے مختصر رکھنے کا حکم دیا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10374)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/320) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
العلاء بن صالح: وثقه الجمهور، وأبو راشد: ذكره ابن حبان في الثقات وقال الحاكم في حديثه: ’’صحيح الإسناد‘‘ وقال الذھبي في حديثه: ’’صحيح‘‘
العلاء بن صالح: وثقه الجمهور، وأبو راشد: ذكره ابن حبان في الثقات وقال الحاكم في حديثه: ’’صحيح الإسناد‘‘ وقال الذھبي في حديثه: ’’صحيح‘‘
حدیث نمبر: 1107
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُطِيلُ الْمَوْعِظَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِنَّمَا هُنَّ كَلِمَاتٌ يَسِيرَاتٌ".
جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبے کو طول نہیں دیتے تھے، وہ بس چند ہی کلمات ہوتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1107]
سیدنا جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز لمبا وعظ نہ فرمایا کرتے تھے، بلکہ چند مختصر سے کلمات ہوا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2192) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (1101)
انظر الحديث السابق (1101)