🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب من قال هي في كل رمضان
باب: شب قدر سارے رمضان میں ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1387
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ النَّسَائِيُّ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ:" هِيَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا اور میں (اس گفتگو کو) سن رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پورے رمضان میں کسی بھی رات ہو سکتی ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان اور شعبہ نے یہ حدیث ابواسحاق کے واسطے سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوفًا روایت کی ہے اور ان دونوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً نہیں نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1387]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا جبکہ میں سن رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سارے رمضان میں ہوتی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کو سفیان اور شعبہ نے ابواسحاق سے، ابن عمر سے موقوفاً روایت کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:7065) (ضعیف) والصحیح موقوف» ‏‏‏‏ (اس کے راوی أبواسحاق مختلط ہو گئے تھے اور یہ معلوم نہیں کہ موسیٰ نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے یا بعد میں)
وضاحت: ۱؎: کثرت احادیث کی بناء پر شب قدر کے سلسلہ میں علماء میں زبردست اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ رمضان میں ہے، پھر راجح یہ ہے کہ وہ رمضان کے اخیر عشرہ میں ہے، پھر ظن غالب یہ ہے کہ وہ طاق راتوں میں ہے، پھر لائق اعتماد قول یہ ہے کہ یہ ستائیسویں رات میں ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف والصحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق مدلس وعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة عند أحمد (5/ 318) وغيره
وروي الطحاوي في معاني الآثار (3/ 74) بسند صحيح عن ابن عمر: ’’ ھي في كل رمضان ‘‘ من قوله موقوفًا عليه وھو صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1375
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ:"صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُورُ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِقِيَّةَ الشَّهْرِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے مہینے کی کسی رات میں بھی ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا یہاں تک کہ (مہینے کی) سات راتیں رہ گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام کیا یعنی تیئیسویں (۲۳) یا چوبیسویں (۲۴) رات کو یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی اور جب چھ راتیں رہ گئیں یعنی (۲۴) ویں یا (۲۵) ویں رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا، اس کے بعد (۲۵) ویں یا (۲۶) ویں رات کو جب کہ پانچ راتیں باقی رہ گئیں آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس رات کاش آپ اور زیادہ قیام فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کو ساری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے، پھر چھبیسویں (۲۶) یا ستائیسویں (۲۷) رات کو جب کہ چار راتیں باقی رہ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر قیام نہیں کیا، پھر ستائیسویں (۲۷) یا اٹھائیسویں (۲۸) رات کو جب کہ تین راتیں باقی رہ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں، اپنی عورتوں اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ ہمیں خوف ہونے لگا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ ابوذر نے کہا: سحر کا کھانا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کی بقیہ راتوں میں قیام نہیں کیا ۱؎۔۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1375]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ کوئی قیام نہ کیا، حتیٰ کہ مہینے میں ایک ہفتہ باقی رہ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قیام کروایا، حتیٰ کہ تہائی رات ہو گئی۔ جب (آخر سے) چھٹی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام نہ کرایا۔ جب پانچویں رات آئی تو ہمیں قیام کروایا، حتیٰ کہ آدھی رات گزر گئی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کاش آپ ہمیں بقیہ رات بھی اس کا قیام کروا دیتے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اور اس کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے۔ جب چوتھی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام نہ کرایا۔ جب تیسری رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقارب، بیویوں اور دوسرے لوگوں کو جمع فرمایا اور ہمیں قیام کرایا، یہاں تک کہ ہمیں فکر ہوئی کہ کہیں ہماری فلاح ہی نہ رہ جائے۔ (جبیر رحمہ اللہ نے کہا) میں نے پوچھا کہ فلاح سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: سحری، پھر بقیہ راتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو قیام نہیں کرایا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصوم 81 (806)، سنن النسائی/السہو103 (1365)، قیام اللیل 4 (1606)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 173 (1327)، (تحفة الأشراف:11903)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/159، 163)، سنن الدارمی/ الصوم 54 (1818) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اگر مہینہ تیس دن کا شمار کیا جائے تو سات راتیں چوبیس سے رہتی ہیں، اور اگر انتیس دن کا مانا جائے تو تیئسویں سے سات راتیں رہتی ہیں، اس حساب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیئسویں، پچسویں اور ستائسویں رات میں قیام کیا، یہ راتیں طاق بھی ہیں اور متبرک بھی، غالب یہی ہے کہ شب قدر بھی انہیں راتوں میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1298)
أخرجه الترمذي (806 وسنده صحيح) والنسائي (1365 وسنده صحيح) وابن ماجه (1327 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2206 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1378
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ فَإِنَّ صَاحِبَنَا سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ: مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، فَقَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، زَادَ مُسَدَّدٌ: وَلَكِنْ كَرِهَ أَنْ يَتَّكِلُوا، أَوْ أَحَبَّ أَنْ لَا يَتَّكِلُوا، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَاللَّهِ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ لَا يَسْتَثْنِي، قُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لِزِرٍّ: مَا الْآيَةُ؟ قَالَ: تُصْبِحُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ مِثْلَ الطَّسْتِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ.
زر کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: ابومنذر! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے؟ اس لیے کہ ہمارے شیخ یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جو پورے سال قیام کرے اسے پا لے گا، ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ رات رمضان میں ہے (مسدد نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے لیکن انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں یا ان کی خواہش تھی کہ لوگ بھروسہ نہ کر لیں، (آگے سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں کی روایتوں میں اتفاق ہے) اللہ کی قسم! یہ رات رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے، اس سے باہر نہیں، میں نے پوچھا: اے ابومنذر! آپ کو یہ کیوں کر معلوم ہوا؟ انہوں نے جواب دیا: اس علامت سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بتائی تھی۔ (عاصم کہتے ہیں میں نے زر سے پوچھا: وہ علامت کیا تھی؟ جواب دیا: اس رات (کے بعد جو صبح ہوتی ہے اس میں) سورج طشت کی طرح نکلتا ہے، جب تک بلندی کو نہ پہنچ جائے، اس میں کرنیں نہیں ہوتیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1378]
کہ لوگ اسی پر تکیہ نہ کر لیں۔ (پھر سلیمان اور مسدد دونوں نے کہا) قسم اللہ کی! یہ رمضان کی ستائیسویں شب کو ہوتی ہے، انہوں نے ان شاء اللہ نہ کہا، میں نے کہا: اے ابوالمنذر رضی اللہ عنہ! آپ کو اس کا کیسے علم ہوا؟ انہوں نے کہا: اس علامت سے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے۔ (عاصم رحمہ اللہ نے کہا) میں نے جناب زر رحمہ اللہ سے پوچھا: وہ علامت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اس رات کی صبح کو سورج طشت (تانبے کی بڑی پلیٹ) کی طرح نکلتا ہے اور اونچا ہونے تک اس میں شعاع (اور حدت) نہیں ہوتی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 25 (762)، سنن الترمذی/الصوم 73 (793)، سنن النسائی/الاعتکاف (3406)، (تحفة الأشراف:18)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/130، 131) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1169)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1379
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسِ بَنِي سَلَمَةَ، وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ، فَقَالُوا: مَنْ يَسْأَلُ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَذَلِكَ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجْتُ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ قُمْتُ بِبَابِ بَيْتِهِ، فَمَرَّ بِي، فَقَالَ:" ادْخُلْ"، فَدَخَلْتُ فَأُتِيَ بِعَشَائِهِ فَرَآنِي أَكُفُّ عَنْهُ مِنْ قِلَّتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" نَاوِلْنِي نَعْلِي"، فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ، فَقَالَ:" كَأَنَّ لَكَ حَاجَةً" قُلْتُ: أَجَلْ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَهْطٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ يَسْأَلُونَكَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ:" كَمْ اللَّيْلَةُ؟ فَقُلْتُ: اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ، قَالَ:" هِيَ اللَّيْلَةُ"، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ:" أَوِ الْقَابِلَةُ، يُرِيدُ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ".
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی سلمہ کی مجلس میں تھا، اور ان میں سب سے چھوٹا تھا، لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے شب قدر کے بارے میں کون پوچھے گا؟ یہ رمضان کی اکیسویں صبح کی بات ہے، تو میں نکلا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھی، پھر آپ کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اندر آ جاؤ، میں اندر داخل ہو گیا، آپ کا شام کا کھانا آیا تو آپ نے مجھے دیکھا کہ میں کھانا تھوڑا ہونے کی وجہ سے کم کم کھا رہا ہوں، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو فرمایا: مجھے میرا جوتا دو، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے؟، میں نے کہا: جی ہاں، مجھے قبیلہ بنی سلمہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ شب قدر کے سلسلے میں پوچھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آج کون سی رات ہے؟، میں نے کہا: بائیسویں رات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی شب قدر ہے، پھر لوٹے اور فرمایا: یا کل کی رات ہو گی آپ کی مراد تیئسویں رات تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1379]
ضمرہ بن عبداللہ بن انیس اپنے والد (عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں بنی سلمہ کی ایک مجلس میں تھا اور میں ان سب سے چھوٹا تھا، انہوں نے کہا: کون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے لیلۃ القدر کے متعلق پوچھ آئے؟ اور یہ رمضان کی اکیسویں تاریخ کی صبح تھی۔ پس میں نکلا اور مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: اندر آ جاؤ۔ میں اندر چلا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشائیہ پیش کیا گیا، مجھے یاد ہے کہ میں کھانا کم ہونے کی وجہ سے جھجھک رہا تھا (یعنی بہت کم کھا رہا تھا)۔ جب فارغ ہو گئے تو فرمایا: مجھے میرے جوتے دو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم کسی کام سے آئے تھے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! مجھے بنی سلمہ کی ایک جماعت نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے، وہ لیلۃ القدر کے متعلق دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کون سی رات ہے؟ میں نے کہا: بائیسویں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی رات ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی اور فرمایا: اگلی رات ہے۔ یعنی تئیسویں رات۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:5143)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (3401، 3402)، مسند احمد (3/495) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (في الكبريٰ :3401)
ابن شھاب الزھري عنعن (تقدم : 145)
و حديث النسائي في الكبري (3402 وسنده حسن) يغني عنه و فيه : بل القابلة ثلاث و عشرين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1380
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي بَادِيَةً أَكُونُ فِيهَا وَأَنَا أُصَلِّي فِيهَا بِحَمْدِ اللَّهِ، فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ"، فَقُلْتُ لِابْنِهِ: كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ فَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ لِحَاجَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، فَإِذَا صَلَّى الصُّبْحَ وَجَدَ دَابَّتَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَجَلَسَ عَلَيْهَا، فَلَحِقَ بِبَادِيَتِهِ.
عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک غیر آباد جگہ پر میرا گھر ہے میں اسی میں رہتا ہوں اور بحمداللہ وہیں نماز پڑھتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئیے کہ میں اس میں اس مسجد میں آیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیئسویں شب کو آیا کرو۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا: تمہارے والد کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب عصر پڑھنی ہوتی تو مسجد میں داخل ہوئے پھر کسی کام سے باہر نہیں نکلتے یہاں تک کہ فجر پڑھ لیتے، پھر جب فجر پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے اور اس پر بیٹھ کر اپنے بادیہ کو واپس آ جاتے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1380]
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دیہات میں رہتا ہوں اور بحمد اللہ وہیں نماز پڑھتا ہوں، تو آپ مجھے کسی رات (لیلۃ القدر) کے متعلق ارشاد فرما دیں کہ اس رات میں یہاں اس مسجد میں آ جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیئیسویں کی رات کو آ جانا۔ (محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا) میں نے ان کے بیٹے (ضمرہ بن عبداللہ رحمہ اللہ) سے کہا: تو تمہارے والد کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: وہ عصر پڑھ کر مسجد میں داخل ہو جایا کرتے تھے اور کسی حاجت کے لیے باہر نہ نکلتے تھے، حتیٰ کہ صبح کی نماز پڑھتے، پس نمازِ صبح کے بعد اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے تھے، اس پر بیٹھتے اور اپنی منزل پر (دیہات میں) چلے آتے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5145)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاعتکاف 6 (12)، (کلاھما نحوہ) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2094)
وأصله عند مسلم (1168) وانظر الحديث السابق (1249)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1381
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، وَفِي سَابِعَةٍ تَبْقَى، وَفِي خَامِسَةٍ تَبْقَى".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے (یعنی شب قدر کو) رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو جب نو راتیں باقی رہ جائیں (یعنی اکیسویں شب کو) اور جب سات راتیں باقی رہ جائیں (یعنی تئیسویں شب کو) اور جب پانچ راتیں باقی رہ جائیں (یعنی پچیسویں شب کو)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1381]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری دس (راتوں) میں تلاش کرو۔ آخری نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/لیلة القدر 3 (2021) 3 (2026)، (تحفة الأشراف: 5994)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/231، 279، 360، 365) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2021)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1382
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ فِيهَا مِنَ اعْتِكَافِهِ، قَالَ:" مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَعْتَكِفْ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَقْدَ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ مِنْ صَبِيحَتِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِين.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے (دہے) میں اعتکاف فرماتے تھے، ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف فرمایا یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی جس میں آپ اعتکاف سے نکل آتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے اب وہ آخر کے دس دن بھی اعتکاف کریں، میں نے یہ (قدر کی) رات دیکھ لی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کو کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں، لہٰذا تم یہ رات آخری عشرے میں تلاش کرو اور وہ بھی طاق راتوں میں۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر اسی رات یعنی اکیسویں کی رات میں بارش ہوئی چونکہ مسجد چھپر کی تھی، اس لیے ٹپکی۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں رات کی صبح کو پانی اور کیچڑ کا نشان تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1382]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سال اعتکاف کیا، حتیٰ کہ جب اکیسویں رات آ گئی اور (قبل ازیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس رات کو اپنے اعتکاف سے نکل آیا کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے تو وہ آخری عشرہ اعتکاف کرے۔ میں نے اس رات (لیلۃ القدر) کو دیکھا ہے، مگر بھلوا دیا گیا ہوں، اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ اس کی صبح کو پانی اور مٹی (کیچڑ) میں سجدہ کر رہا ہوں، چنانچہ تم اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے ہر طاق رات میں تلاش کرو۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، چنانچہ اسی رات بارش ہو گئی اور مسجد کی چھت، جو چھڑیوں کی بنی ہوئی (چھپرن) تھی، ٹپک پڑی۔ میری آنکھوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی (کیچڑ) کا نشان تھا اور یہ اکیسویں رات کی صبح تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 894، (تحفة الأشراف: 4419) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2027) صحيح مسلم (1167)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، وَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ، وَالسَّابِعَةِ، وَالْخَامِسَةِ". قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: أَجَلْ، قُلْتُ: مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ؟ قَالَ: إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا التَّاسِعَةُ، وَإِذَا مَضَى ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، وَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَا أَدْرِي أَخَفِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے نویں، ساتویں اور پانچویں شب میں ڈھونڈو۔ ابونضرہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوسعید! آپ ہم میں سے سب سے زیادہ اعداد و شمار جانتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: نویں، ساتویں اور پانچویں رات سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: جب (۲۱) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات نویں ہے، اور جب (۲۳) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات ساتویں ہے، اور جب (۲۵) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات پانچویں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم اس میں سے کچھ مجھ پر مخفی رہ گیا ہے یا نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1383]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔ نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔ (یعنی آخر مہینہ سے) میں نے کہا: اے ابوسعید! آپ گنتی ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: نویں، ساتویں اور پانچویں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: جب اکیسویں گزر جائے تو اس کے بعد والی نویں ہے اور جب تیئیسویں گزر جائے تو اس کے بعد والی ساتویں ہے اور جب پچیسویں گزر جائے تو اس کے بعد والی پانچویں ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ اس حدیث میں مجھ پر کوئی امر مخفی رہا ہے یا نہیں۔ (کیونکہ حتمی تاریخ کے تعین میں شبہ سا رہتا ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/السہو 98 (1357)، (تحفة الأشراف:4332)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/لیلة القدر 2 (2016)، 3 (2022)، والاعتکاف 1 (2026)، 9 (2036)، 13 (2040)، صحیح مسلم/الصیام 40 (1167)، سنن ابن ماجہ/الصیام 56 (1766)، موطا امام مالک/الاعتکاف 6 (9)، مسند احمد (3/94) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1167)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو اخیر کی سات راتوں میں تلاش کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1385]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخری سات راتوں میں شب قدر تلاش کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصیام 40 (1165)، سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (3400)، (تحفة الأشراف:7230)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاعتکاف 6(11)، مسند احمد (2/37، 62، 74، 113)، سنن الدارمی/الصوم 56 (1824) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1165)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1386
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُطَرِّفًا، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، قَالَ:" لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ".
معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا: شب قدر ستائیسویں رات ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1386]
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ستائیسویں کی رات شب قدر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:11440) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ورواه البيھقي (4/312) بسند صحيح عن شعبة به موقوفًا وروي الطحاوي في معاني الآثار (3/84) بسند صحيح عن ابن عمر من قوله موقوفًا عليه وھو صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں