سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب من لم ير السجود في المفصل
باب: مفصل میں سجدہ نہ ہونے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1404
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ" فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ النجم پڑھ کر سنائی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1404]
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم کی تلاوت کی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/سجود القرآن 6 (1072)، صحیح مسلم/المساجد 20 (577)، ت الجمعة 52 (576)، سنن النسائی/الافتتاح 50 (961)، (تحفة الأشراف:3733)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/183، 186)، سنن الدارمی/الصلاة 164 (1513) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1073) صحيح مسلم (577)
حدیث نمبر: 1409
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ ص مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْجُدُ فِيهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سورۃ ص کا سجدہ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1409]
عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ”سورۃ ص کا سجدہ واجبی سجدوں میں سے نہیں ہے، جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اس میں سجدہ کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/سجود القرآن 3 (1069)، سنن الترمذی/الصلاة 288 (الجمعة 53) (577)، سنن النسائی/الافتتاح 48 (958)، (تحفة الأشراف:5988)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 161 (1508) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1069)