سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب صدقة الزرع
باب: کھیتوں میں پیدا ہونے والی چیزوں کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1596
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ بَعْلًا الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي أَوِ النَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کھیت کو آسمان یا دریا یا چشمے کا پانی سینچے یا زمین کی تری پہنچے، اس میں سے پیداوار کا دسواں حصہ لیا جائے گا اور جس کھیتی کی سینچائی رہٹ اور جانوروں کے ذریعہ کی گئی ہو اس کی پیداوار کا بیسواں حصہ لیا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1596]
جناب سالم بن عبداللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کھیتیاں بارش سے سیراب ہوتی ہوں یا دریاؤں اور چشموں سے یا زمین کی تری سے تو ان میں دسواں حصہ ہے اور جو اونٹنیوں سے (رہٹ کے ذریعے سے) سیراب کی جاتی ہوں یا جن کی آب پاشی کی جاتی ہو تو ان میں بیسواں حصہ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 55 (1483)، سنن الترمذی/الزکاة 14 (640)، سنن النسائی/الزکاة 25 (2490)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 17 (1817)، (تحفة الأشراف:6977) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1483)
حدیث نمبر: 1598
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، وَحُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْعَجَلِيُّ، قَالَا: قَالَ وَكِيعٌ: الْبَعْلُ الْكَبُوسُ الَّذِي يَنْبُتُ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ، قَالَ ابْنُ الْأَسْوَدِ: وَقَالَ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ آدَمَ: سَأَلْتُ أَبَا إِيَاسٍ الْأَسَدِيّ، عَنِ الْبَعْلِ، فَقَالَ: الَّذِي يُسْقَى بِمَاءِ السَّمَاءِ، وقَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: الْبَعْلُ مَاءُ الْمَطَرِ.
وکیع کہتے ہیں «بعل» سے مراد وہ کھیتی ہے جو آسمان کے پانی سے (بارش) اگتی ہو، ابن اسود کہتے ہیں: یحییٰ (یعنی ابن آدم) کہتے ہیں: میں نے ابو ایاس اسدی سے «بعل» کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: «بعل» وہ زمین ہے جو آسمان کے پانی سے سیراب کی جاتی ہو، نضر بن شمیل کہتے ہیں: «بعل» بارش کے پانی کو کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1598]
جناب وکیع رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ «اَلْبَعْلُ الْكَبُوسُ» سے مراد ”وہ کھیتی ہے جو بارش سے سیراب ہوتی ہو۔“ ابن اسود کہتے ہیں کہ یحییٰ بن آدم رحمہ اللہ نے کہا کہ ”میں نے ابو ایاس اسدی سے «بَعْل» کے متعلق وضاحت پوچھی تو کہا، جو کھیتی بارش سے سیراب ہوتی ہو۔“ نضر بن شمیل رحمہ اللہ نے کہا: ” «بَعْل» سے مراد بارش کا پانی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح