🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب من روى نصف، صاع من قمح
باب: گیہوں میں آدھا صاع صدقہ فطر دینے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1622
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حُمَيْدٌ: أَخْبَرَنَا، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ:" خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي آخِرِ رَمَضَانَ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: أَخْرِجُوا صَدَقَةَ صَوْمِكُمْ، فَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ، فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى رُخْصَ السِّعْرِ، قَالَ: قَدْ أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، فَلَوْ جَعَلْتُمُوهُ صَاعًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ"، قَالَ حُمَيْدٌ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَرَى صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى مَنْ صَامَ.
حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے اخیر میں بصرہ کے منبر پر خطبہ دیا اور کہا: اپنے روزے کا صدقہ نکالو، لوگ نہیں سمجھ سکے تو انہوں نے کہا: اہل مدینہ میں سے کون کون لوگ یہاں موجود ہیں؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سمجھاؤ، اس لیے کہ وہ نہیں جانتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صدقہ فرض کیا کھجور یا جَو سے ایک صاع، اور گیہوں سے آدھا صاع ہر آزاد اور غلام، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے پر، پھر جب علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ارزانی دیکھی اور کہنے لگے: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کر دی ہے، اب اسے ہر شے میں سے ایک صاع کر لو ۱؎ تو بہتر ہے۔ حمید کہتے ہیں: حسن کا خیال تھا کہ صدقہ فطر اس شخص پر ہے جس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1622]
جناب حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رمضان کے آخر میں بصرہ میں منبر پر خطبہ دیا اور کہا: اپنے روزوں کا صدقہ ادا کرو۔ تو گویا لوگوں کو ان کی بات سمجھ میں نہ آئی، تو انہوں نے کہا: اہلِ مدینہ میں سے یہاں کون ہے؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سمجھاؤ، یہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صدقہ فرض فرمایا ہے کہ ہر آزاد، غلام، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے کی طرف سے کھجور یا جو سے ایک صاع دیا جائے یا گندم کا آدھا صاع۔ اور جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے ارزانی دیکھی، تو فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر وسعت فرمائی ہے، سو اگر تم ہر چیز سے ایک ایک صاع ہی دیا کرو (تو بہتر اور افضل ہے)۔ حمید بیان کرتے ہیں کہ جناب حسن رحمہ اللہ رمضان کا صدقہ اسی شخص پر لازم سمجھتے تھے، جس نے روزے رکھے ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزکاة 36 (2510)، (تحفة الأشراف:5394) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (حسن بصری کا سماع ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نہیں ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی گیہوں بھی ایک صاع دو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (1581،2510)
وقال النسائي : ’’ الحسن لم يسمع من ابن عباس ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 65

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1611
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَقَرَأَهُ عَلَيَّ مَالِكٌ أَيْضًا، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ، قَالَ فِيهِ فِيمَا قَرَأَهُ عَلَيَّ مَالِكٌ:" زَكَاةُ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کھجور سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع فرض کیا ہے، جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام پر، مرد اور عورت پر (فرض) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1611]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں صدقہ فطر فرض فرمایا، اس طرح کہ ہر مسلمان آزاد، غلام، مرد اور عورت کی طرف سے کھجور یا جو کا ایک صاع دیا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 73 (1506)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (984)، سنن الترمذی/الزکاة 35، 36 (676)، سنن النسائی/الزکاة 33 (2505)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 21 (1826)، (تحفة الأشراف:8321)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 28 (52)، مسند احمد (2/5، 55، 63، 66، 102، 114، 137)، سنن الدارمی/الزکاة 27 (1702) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1504) صحيح مسلم (984)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1613
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَاهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ،" فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ"، زَادَ مُوسَى: وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ فِيهِ: أَيُّوبُ وَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ فِي حَدِيثِهِمَا: عَنْ نَافِعٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى أَيْضًا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر جو یا کھجور میں سے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد اور غلام پر ایک صاع فرض کیا ہے۔ موسیٰ کی روایت میں «والذكر والأنثى» بھی ہے یعنی مرد اور عورت پر بھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں ایوب اور عبداللہ یعنی عمری نے اپنی اپنی روایتوں میں نافع سے «ذكر أو أنثى» کے الفاظ (نکرہ کے ساتھ) ذکر کئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1613]
سیدنا عبداللہ (ابن عمر) رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر فرض فرمایا، ایک صاع جو یا کھجور کا، جو ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام پر واجب ہے۔ موسیٰ بن اسماعیل نے مرد اور عورت کے لفظ بھی کہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت میں ایوب اور عبداللہ العمری بھی نافع سے «ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ» مرد اور عورت کے الفاظ بیان کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 78 (1512)، (تحفة الأشراف:7795، 7815، 8171)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/55) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وانظر الحديث السابق (1612)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1620
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابِجِرْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ هُوَ ابْنُ وَائِلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَوْ قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ،عَنْ بَكْرٍ الْكُوفِيِّ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: هُوَ بَكْرُ بْنُ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، أَنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَأَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعِ تَمْرٍ أَوْ صَاعِ شَعِيرٍ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ"، زَادَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: أَوْ صَاعِ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ اتَّفَقَا عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ".
ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر شخص کی جانب سے نکالنے کا حکم دیا۔ علی بن حسین نے اپنی روایت میں «أو صاع بر أو قمح بين اثنين» کا اضافہ کیا ہے (یعنی دو آدمیوں کی طرف سے گیہوں کا ایک صاع نکالنے کا)، پھر دونوں کی روایتیں متفق ہیں: چھوٹے بڑے آزاد اور غلام ہر ایک کی طرف سے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1620]
جناب عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کا حکم ارشاد فرمایا کہ ہر فرد کی طرف سے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو دیا جائے۔ علی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ یا دو افراد کی طرف سے ایک صاع گندم کا دیا جائے۔ اس حصے سے بعد کی روایت میں (علی بن حسن اور محمد بن یحییٰ نیشاپوری) دونوں متفق ہیں کہ چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے دیا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:2073)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/432) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1619)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 65

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں