سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب في رمى الجمار
باب: رمی جمرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1976
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ ابْنَيْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا".
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ناغہ کریں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1976]
ابوالبداح بن عدی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی تھی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1976]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5030) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1975)
انظر الحديث السابق (1975)
حدیث نمبر: 1975
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ، يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ بِيَوْمَيْنِ وَيَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ".
عاصم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو (منیٰ میں) رات نہ گزارنے کی رخصت دی اور یہ کہ وہ یوم النحر کو رمی کریں، پھر اس کے بعد والے دن یعنی گیارہویں کو گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں، اور پھر روانگی کے دن (تیرہویں کو) رمی کریں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1975]
ابو البداح بن عاصم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو منیٰ میں راتیں گزارنے سے رخصت دی تھی (کہ) یہ لوگ قربانی والے دن رمی کریں، پھر اگلے دن (گیارہویں تاریخ کو) اس کے بعد اگلا دن چھوڑ کر روانگی والے دن دو دن کی رمی کریں۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1975]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 108 (954 و 955)، سنن النسائی/الحج 225 (307)، سنن ابن ماجہ/المناسک 67 (3036، 3037)، (تحفة الأشراف: 5030)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 72 (218)، مسند احمد (5/450)، سنن الدارمی/المناسک 58 (1938) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (955 وسنده صحيح) والنسائي (3070 وسنده صحيح) وابن ماجه (3037 وسنده صحيح، 3036) وصححه ابن خزيمة (2975 وسنده صحيح)
أخرجه الترمذي (955 وسنده صحيح) والنسائي (3070 وسنده صحيح) وابن ماجه (3037 وسنده صحيح، 3036) وصححه ابن خزيمة (2975 وسنده صحيح)