🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب في الولي
باب: ولی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2086
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ ابْنِ جَحْشٍ فَهَلَكَ عَنْهَا وَكَانَ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عِنْدَهُمْ".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ابن حجش کے نکاح میں تھیں، ان کا انتقال ہو گیا اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سر زمین حبشہ کی جانب ہجرت کی تھی تو نجاشی (شاہ حبش) نے ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا، اور وہ انہیں لوگوں کے پاس (ملک حبش ہی میں) تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2086]
جناب عروہ بن زبیر رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بتاتے ہیں کہ یہ پہلے ابن جحش کی زوجیت میں تھیں، وہ فوت ہو گیا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو حبشہ کی جانب ہجرت کر کے گئے تھے، تو نجاشی نے ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا جبکہ یہ ان کے ہاں (حبشہ ہی میں) تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/النکاح 66 (3352)، (تحفة الأشراف: 15854)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/427) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3352) ويأتي (2107)
الزھري مدلس وعنعن و ھذا مشهور عند أھل السير
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 79

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2107
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْهَرَهَا عَنْهُ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: حَسَنَةُ هِيَ أُمُّهُ.
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ عبیداللہ بن حجش کے نکاح میں تھیں، حبشہ میں ان کا انتقال ہو گیا تو نجاشی (شاہ حبشہ) نے ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا، اور آپ کی جانب سے انہیں چار ہزار (درہم) مہر دے کر شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ کر دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حسنہ شرحبیل کی والدہ ۲؎ ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2107]
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا (اپنے متعلق) بیان کرتی ہیں کہ یہ پہلے عبیداللہ بن جحش کی زوجیت میں تھیں اور وہ حبشہ جا کر فوت ہو گیا تو نجاشی نے ان سے شادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دی اور اپنی طرف سے ان کو چار ہزار (درہم) مہر ادا کیا۔ پھر انہیں شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کی معیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ وضاحت فرماتے ہیں کہ شرجیل بن حسنہ میں حسنہ ان کی والدہ کا نام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15855) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سب سے زیادہ انہیں کا مہر تھا، باقی ازاواج مطہرات اور صاحبزادیوں کا مہر حد سے حد پانچ سو درہم تک تھا، جیسا کہ حدیث نمبر (۲۱۰۵) میں گزرا۔
۲؎: یہ والد کے بجائے اپنی والدہ کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحديث السابق (2086)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 80

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،" أَنَّ النَّجَاشِيَّ زَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَدَاقِ أَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ".
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ نجاشی (شاہ حبشہ) نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار ہزار درہم کے عوض کر دیا اور یہ بات آپ کو لکھ بھیجی تو آپ نے قبول فرما لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2108]
امام زہری رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ نجاشی نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کر دیا، اور چار ہزار درہم مہر ادا کیا۔ اور یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھ بھیجی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15855، 19400) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
وانظر الحديث السابق (2107)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 80

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں