سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب في الاستئمار
باب: نکاح کے وقت لڑکی سے اجازت لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2092
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا الْبِكْرُ إِلَّا بِإِذْنِهَا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا إِذْنُهَا؟ قَالَ:" أَنْ تَسْكُتَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غیر کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے پوچھ نہ لیا جائے، اور نہ ہی کنواری عورت کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کیا جائے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کی اجازت یہ ہے کہ) وہ خاموش رہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2092]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ کا نکاح نہ کیا جائے حتیٰ کہ اس سے مشورہ کر لیا جائے۔ اور کنواری کا نکاح نہ کیا جائے مگر اس کی اجازت سے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی کہ خاموشی رہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 15358)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 41 (5136)، والحیل 11 (6970)، صحیح مسلم/النکاح 9 (1419)، سنن الترمذی/النکاح 18 (1107، 1108)، سنن النسائی/النکاح 34 (3269)، سنن ابن ماجہ/النکاح 11 (1871)، مسند احمد (2/229، 250، 425، 434)، سنن الدارمی/النکاح 13 (2232) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6970، 5136) صحيح مسلم (1419)
حدیث نمبر: 2093
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْمَعْنَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا". وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ومُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یتیم لڑکی سے اس کے نکاح کے لیے اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموشی اختیار کرے تو یہی اس کی اجازت ہے اور اگر انکار کر دے تو اس پر زبردستی نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2093]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یتیم لڑکی سے (نکاح کے سلسلے میں) اس کی اپنی ذات کے بارے میں مشورہ کیا جائے۔ اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی اجازت ہے اور اگر انکار کر دے تو اس پر جبر جائز نہیں۔“ یزید بن زریع کی سند میں «أَخْبَرَنَا» کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوخالد سلیمان بن حیان اور معاذ بن معاذ نے محمد بن عمرو سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15014، 15113)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 19 (1109)، سنن النسائی/النکاح 36 (3272)، مسند احمد (2/259، 384) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3133)
رواه الترمذي (1109 وسنده صحيح) والنسائي (3272 وسنده حسن) وله شواھد صحيحة
مشكوة المصابيح (3133)
رواه الترمذي (1109 وسنده صحيح) والنسائي (3272 وسنده حسن) وله شواھد صحيحة
حدیث نمبر: 2094
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، زَادَ فِيهِ: قَالَ:" فَإِنْ بَكَتْ أَوْ سَكَتَتْ"، زَادَ: بَكَتْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ بَكَتْ بِمَحْفُوظٍ، وَهُوَ وَهْمٌ فِي الْحَدِيثِ، الْوَهْمُ مِنْ ابْنِ إِدْرِيسَ أَوْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ أَبُو عَمْرٍو ذَكْوَانُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي أَنْ تَتَكَلَّمَ قَالَ:" سُكَاتُهَا إِقْرَارُهَا".
اس سند سے بھی محمد بن عمرو سے اسی طریق سے یہی حدیث یوں مروی ہے اس میں «فإن بكت أو سكتت» ”اگر وہ رو پڑے یا چپ رہے“ یعنی «بكت» (رو پڑے) کا اضافہ ہے، ابوداؤد کہتے ہیں «بكت» (رو پڑے) کی زیادتی محفوظ نہیں ہے یہ حدیث میں وہم ہے اور یہ وہم ابن ادریس کی طرف سے ہے یا محمد بن علاء کی طرف سے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعمرو ذکوان نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اس میں ہے انہوں نے کہا اللہ کے رسول! باکرہ تو بولنے سے شرمائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2094]
محمد بن عمرو نے یہ حدیث اپنی سند سے روایت کی اور اس نے کہا «فَإِنْ بَكَتْ أَوْ سَكَتَتْ» ”اگر وہ رو پڑے یا خاموش رہے۔“ اس نے «بَكَتْ» کے لفظ کا اضافہ کیا (رو پڑے۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لفظ «بَكَتْ» محفوظ نہیں، وہم ہے جو ابن ادریس سے ہوا ہے یا محمد بن علاء سے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو ابوعمرو ذکوان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا، وہ کہتی ہیں کہ (میں نے کہا) ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کنواری لڑکی تو بات کرنے سے حیا کرتی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا خاموش رہنا ہی اس کا اقرار ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث محمد بن العلاء قد تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15035)، وحدیث أبو عمر وذکوان عن عائشة، قد رواہ صحیح البخاری/النکاح 41 (5137)، صحیح مسلم/النکاح 9(1420)، سنن النسائی/ النکاح 34 (3268)، (تحفة الأشراف: 1675)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/45، 165، 203) (صحیح)» (مگر «بکت» کا لفظ شاذ ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
رواه البخاري (5137، 6946، 6971) ومسلم (1420)
رواه البخاري (5137، 6946، 6971) ومسلم (1420)
حدیث نمبر: 2098
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا". وَهَذَا لَفْظُ الْقَعْنَبِيِّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثیبہ ۱؎ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2098]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی کی بہ نسبت زیادہ حقدار ہے، اور کنواری سے بھی اس کے اپنے بارے میں مشورہ کیا جائے، اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔“ اور یہ لفظ قعنبی (عبداللہ بن مسلمہ) کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2098]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 9 (1421)، سنن الترمذی/النکاح 17 (1108)، سنن النسائی/النکاح 31 (3262)، سنن ابن ماجہ/النکاح 11 (1870)، (تحفة الأشراف: 6517)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 2 (4)، مسند احمد (1/219، 243، 274، 354، 355، 362)، سنن الدارمی/النکاح 13 (2234) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «ایّم» سے مراد ثیبہ عورت ہے اس کی تائید صحیح مسلم کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے، ترجمۃ الباب سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے لیکن اس کے برخلاف بعض لوگوں نے «ایّم» سے مراد بیوہ عورت لیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1421)
حدیث نمبر: 2099
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ:" الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُوهَا لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
عبداللہ بن فضل سے بھی اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کا باپ پوچھے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «أبوها» کا لفظ محفوظ نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2099]
عبداللہ بن فضل نے اپنی سند سے اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا اور کہا: ”بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنے بارے میں زیادہ حقدار ہے، اور کنواری سے اس کا باپ مشورہ کرے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «أَبُوهَا» ”اس کا باپ“ کا لفظ محفوظ نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6517) (صحیح)» ( «تستأمر» کے لفظ سے صحیح ہے، اس روایت کا لفظ شاذ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ تستأمر دون ذكر أبوها
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1421)
حدیث نمبر: 2100
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2100]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کو بیوہ کے معاملے میں کوئی دخل حاصل نہیں ہے، اور یتیم لڑکی سے مشورہ کیا جائے اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2098)، (تحفة الأشراف: 6517) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه النسائي (3265)
أخرجه النسائي (3265)