🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب إذا شك في الولد
باب: جب بچے کے متعلق شک ہو تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2261
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ.
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ یہ کہہ کر اس کا مقصد اپنے سے بچہ کی نفی کرنی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2261]
زہری نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا اور کہا: وہ شخص اپنی بات کہتے ہوئے بچے سے انکار کا اشارہ کر رہا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن النسائی/الطلاق 46 (3509)، (تحفة الأشراف: 13273)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/233، 279) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1500)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2260
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي جَاءَتْ بِوَلَدٍ أَسْوَدَ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا أَلْوَانُهَا؟" قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟" قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ:" فَأَنَّى تُرَاهُ؟" قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ:" وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی فزارہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا بچہ جنا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پوچھا: کون سے رنگ کے ہیں؟ جواب دیا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کوئی خاکستری بھی ہے؟ جواب دیا: ہاں، خاکی رنگ کا بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: پھر یہ کہاں سے آ گیا؟، بولا: شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں بھی ہو سکتا ہے (تمہارے لڑکے میں بھی) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2260]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو فزارہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: میری بیوی نے بچے کو جنم دیا ہے جو کالے رنگ کا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ان کے رنگ کیسے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ان میں کوئی «أَوْرَقُ» گندم گوں (یا سیاہی مائل) بھی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، ان میں سیاہی مائل بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا کیا خیال ہے وہ کہاں سے آئے؟ اس نے کہا: شاید «نَزَعَهُ عِرْقٌ» ان کو کسی رگ نے کھینچا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے کو بھی شاید «نَزَعَهُ عِرْقٌ» کسی رگ نے کھینچا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن الترمذی/الولاء 4 (2129)، سنن النسائی/الطلاق 46 (3580)، سنن ابن ماجہ/النکاح 58 (2200)، (تحفة الأشراف: 13129)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق 26 (5305)، الحدود 41 (6847)، الاعتصام 12 (7314)، مسند احمد (2/234، 239، 409) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اس وقت کسی رگ میں سے جس میں کالا پن زیادہ تھا نطفہ میں سواد (کالا رنگ) زیادہ مل گیا ہو، اور اس کی وجہ سے لڑکا کالا اور سیاہ رنگ ہو تو اس قسم کے اختلاف سے اس کے نسب سے متعلق دل میں شبہ کرنا صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1500)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں