سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. باب كيف كان يصوم النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2434
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ. وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ. وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ روزے رکھنا نہیں چھوڑیں گے، پھر چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہ رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور جتنے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے اتنے روزے کسی اور ماہ میں رکھتے نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2434]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”روزے رکھنا شروع کر دیتے تو ہم سمجھتے کہ اب نہیں چھوڑیں گے اور جب چھوڑ دیتے تو ہم سمجھتے کہ اب نہیں رکھیں گے۔ میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں زیادہ روزے نہ رکھتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 52 (1969)، صحیح مسلم/الصیام 34 (1156)، سنن الترمذی/الصوم 37 (736)، سنن النسائی/الصیام 19 (2179)، (تحفة الأشراف: 17710)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 30 (1710)، موطا امام مالک/الصوم 22 (56)، مسند احمد (6/39، 80، 84، 89، 107، 128، 143، 153، 165، 179، 233، 242، 249، 268) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1969) صحيح مسلم (1156)
حدیث نمبر: 2430
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صِيَامِ رَجَبٍ. فَقَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ".
عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: افطار ہی نہیں کریں گے، اسی طرح جب روزے چھوڑتے تو چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: اب روزے رکھیں گے ہی نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2430]
عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ ”میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے رجب کے روزے کے متعلق سوال کیا“ تو انہوں نے کہا: ”مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھا کرتے تو ہم کہتے: ”اب نہیں چھوڑیں گے“ اور کبھی چھوڑ دیتے تو ہم کہتے: ”اب نہیں رکھیں گے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 34 (1157)، (تحفة الأشراف: 5554)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الصیام 41 (2348، 2348)، سنن ابن ماجہ/الصیام 30 (1711)، مسند احمد (1/226، 227، 231، 326) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ باب کئی نسخوں میں نہیں ہے، جب کہ مولانا وحیدالزماں کے نسخہ میں موجود ہے، اور تبویب حدیث کے مطابق ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1971 مختصرًا) صحيح مسلم (1157)
حدیث نمبر: 2431
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: كَانَ"أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مہینوں میں سب سے زیادہ محبوب یہ تھا کہ آپ شعبان میں روزے رکھیں، پھر اسے رمضان سے ملا دیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2431]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”روزے رکھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کا مہینہ سب سے زیادہ پسند تھا، پھر آپ اسے (گویا) رمضان ہی سے ملا دیتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 26280)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الصیام (2659) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (2352 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (2352 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 2435
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ. زَادَ: كَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلًا، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے: ”آپ شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے، سوائے چند دنوں کے بلکہ پورے شعبان میں روزے رکھتے تھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2435]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان کرتے ہیں جیسے کہ مذکورہ بالا حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا میں گزرا ہے اور اس میں اس قدر زیادہ ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں بہت کم ناغہ فرماتے تھے بلکہ (گویا) سارا شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15016) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن