🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ما جاء في ميراث الصلب
باب: صلبی (حقیقی) اولاد کی میراث کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2893
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو حَسَّانَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَرَّثَ أُخْتًا وَابْنَةً فَجَعَلَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا النِّصْفَ، وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ.
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بہن اور بیٹی میں اس طرح ترکہ تقسیم کیا کہ آدھا مال بیٹی کو ملا اور آدھا بہن کو (کیونکہ بہن بیٹی کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہے) اور وہ یمن میں تھے، اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت باحیات تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2893]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ایک بہن اور ایک بیٹی کو میت کا وارث بنایا اور ہر ایک کو آدھا آدھا دیا، جبکہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ان دنوں یمن میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باحیات تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الفرائض 6، 12 (6734)، (تحفة الأشراف: 11307)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الفرائض 4 (2921) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6734)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2890
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَسَأَلَهُمَا، عَنِ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ، وأخت لأب وأم، فقالا لابنته النصف، وللأخت من الأب، والأم النصف، ولم يورثا ابنة الابن شيئا، وأت ابن مسعود فإنه سيتابعنا فأتاه الرجل فسأله وأخبره بقولهما، فقال لقد ضللت إذا وما أَنَا وَلَكِنِّي سَأَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءِ مِنَ الْمُهْتَدِينَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنَتِهِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ سَهْمٌ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ.
ہزیل بن شرحبیل اودی کہتے ہیں ایک شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سلیمان بن ربیعہ کے پاس آیا اور ان دونوں سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ایک بیٹی ہو اور ایک پوتی اور ایک سگی بہن (یعنی ایک شخص ان کو وارث چھوڑ کر مرے) تو اس کی میراث کیسے بٹے گی؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ بیٹی کو آدھا اور سگی بہن کو آدھا ملے گا، اور انہوں نے پوتی کو کسی چیز کا وارث نہیں کیا (اور ان دونوں نے پوچھنے والے سے کہا) تم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی جا کر پوچھو تو وہ بھی اس مسئلہ میں ہماری موافقت کریں گے، تو وہ شخص ان کے پاس آیا اور ان سے پوچھا اور انہیں ان دونوں کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: تب تو میں بھٹکا ہوا ہوں گا اور راہ یاب لوگوں میں سے نہ ہوں گا، لیکن میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، اور وہ یہ کہ بیٹی کا آدھا ہو گا اور پوتی کا چھٹا حصہ ہو گا دو تہائی پورا کرنے کے لیے (یعنی جب ایک بیٹی نے آدھا پایا تو چھٹا حصہ پوتی کو دے کر دو تہائی پورا کر دیں گے) اور جو باقی رہے گا وہ سگی بہن کا ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2890]
ہزیل بن شرجیل اودی سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا کہ ایک شخص فوت ہوا، ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک حقیقی بہن چھوڑ گیا۔ (اس کی میراث کیونکر تقسیم ہو؟) ان دونوں نے کہا: بیٹی کے لیے آدھا ہے اور حقیقی بہن کے لیے بھی آدھا۔ پوتی کو انہوں نے محروم ٹھہرایا اور (کہا کہ) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جاؤ (اور ان سے بھی پوچھ لو) وہ ہماری تصدیق و تائید کریں گے۔ چنانچہ وہ آدمی ان کے پاس گیا اور مذکورہ مسئلہ پوچھا اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا جواب بھی بتایا۔ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: (اگر میں بھی یہی جواب دوں) تب تو میں گمراہ ہو گیا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ ہوا، میں وہ فیصلہ دیتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا کہ اس کی بیٹی کے لیے آدھا اور پوتی کے لیے ایک حصہ (چھٹا حصہ) ہے دو تہائی کی تکمیل کے لیے اور باقی ماندہ (ایک تہائی) وہ حقیقی بہن کے لیے ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الفرائض 8 (6736)، سنن الترمذی/الفرائض 4 (2093)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 2 (2721)، (تحفة الأشراف: 9594)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389، 428، 440، 463)، سنن الدارمی/الفرائض 7 (2932) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6736)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں