سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب ما جاء في ميراث الصلب
باب: صلبی (حقیقی) اولاد کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2893
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو حَسَّانَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَرَّثَ أُخْتًا وَابْنَةً فَجَعَلَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا النِّصْفَ، وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ.
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بہن اور بیٹی میں اس طرح ترکہ تقسیم کیا کہ آدھا مال بیٹی کو ملا اور آدھا بہن کو (کیونکہ بہن بیٹی کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہے) اور وہ یمن میں تھے، اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت باحیات تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2893]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ”ایک بہن اور ایک بیٹی کو میت کا وارث بنایا اور ہر ایک کو آدھا آدھا دیا،“ جبکہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ان دنوں یمن میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باحیات تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الفرائض 6، 12 (6734)، (تحفة الأشراف: 11307)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الفرائض 4 (2921) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6734)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2893
| ورث أختا وابنة فجعل لكل واحدة منهما النصف وهو باليمن ونبي الله يومئذ حي |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2893 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2893
فوائد ومسائل:
بہنیں بیٹیوں کےساتھ مل کر عصبہ مع الغیر (ہر وہ مونث جو کسی دوسری مونث کی وجہ سے عصبہ بنے۔
اس میں صرف حقیقی بہن اور پدری بہن آتی ہے۔
جب بیٹی یا پوتی ساتھ مل کرآئے) ہو جاتی ہیں۔
بیٹی اور بہن ایک ایک ہوں۔
تو نصف نصف ملے گا۔
بیٹی کو وراثت سے نصف ملے گا۔
اور بہن کوعصبہ ہونے کی بنا پر نصف مل جائے گا۔
اور اگربیٹیاں دو یا زائد ہوں۔
تو دو تہائی کے بعد باقی بہن یا بہنوں کو ملے گا۔
بہنیں بیٹیوں کےساتھ مل کر عصبہ مع الغیر (ہر وہ مونث جو کسی دوسری مونث کی وجہ سے عصبہ بنے۔
اس میں صرف حقیقی بہن اور پدری بہن آتی ہے۔
جب بیٹی یا پوتی ساتھ مل کرآئے) ہو جاتی ہیں۔
بیٹی اور بہن ایک ایک ہوں۔
تو نصف نصف ملے گا۔
بیٹی کو وراثت سے نصف ملے گا۔
اور بہن کوعصبہ ہونے کی بنا پر نصف مل جائے گا۔
اور اگربیٹیاں دو یا زائد ہوں۔
تو دو تہائی کے بعد باقی بہن یا بہنوں کو ملے گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2893]
Sunan Abi Dawud Hadith 2893 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← معاذ بن جبل الأنصاري