🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب في كراهية الحلف بالآباء
باب: باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3250
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ مَعْنَاهُ إِلَى بِآبَائِكُمْ زَادَ، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَذَا ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا.
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (غیر اللہ کی قسم کھاتے ہوئے) سنا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث: «بآبائكم» تک بیان کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی پھر میں نے نہ جان بوجھ کر اس کی قسم کھائی، اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3250]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے سنا (کہ میں اپنے باپ کے نام کی قسم کھا رہا تھا) مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مزید کہا: اللہ کی قسم! (بعد ازاں) میں نے ان کی قسم نہیں کھائی، نہ عمداً اور نہ حکایتاً (کسی کی طرف سے نقل کرتے ہوئے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الإیمان 4 (6647)، صحیح مسلم/ الأیمان 1 (1646)، سنن النسائی/ الأیمان 4 (3798، 3799)، سنن ابن ماجہ/ الکفارات 2 (2094)، (تحفة الأشراف: 10518)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/18، 36) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1646)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3249
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَدْرَكَهُ وَهُوَ فِي رَكْبٍ، وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا، فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَسْكُتْ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں پایا کہ وہ ایک قافلہ میں تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے روکتا ہے اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہے تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3249]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ ایک قافلے میں جا رہے تھے کہ پیچھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آن ملے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سنا) جب کہ وہ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے، تو فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں منع فرماتا ہے کہ اپنے آباء و اجداد کی قسمیں کھاؤ، جسے قسم کھانی ہو وہ اللہ کے نام کی قسم کھائے، یا خاموش رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأیمان 1 (1646)، (تحفة الأشراف: 10555)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 74 (6107)، الأیمان 4 (6647)، سنن الترمذی/الأیمان 8 (1533)، سنن النسائی/الأیمان 4 (3399)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 2 (2094)، موطا امام مالک/النذور 9 (14)، مسند احمد (2/11، 34، 69، 87، 125، 142) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6108) صحيح مسلم (1646)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں