🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب اليمين على المدعى عليه
باب: جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو مدعی علیہ قسم کھائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3619
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے میرے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ کیا ہے (یعنی جب وہ منکر ہو اور مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو وہ قسم کھائے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3619]
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھ بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ (جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو) مدعا علیہ قسم کھائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الرھن 6 (2514)، الشھادات 20 (2668)، تفسیر آل عمران 3 (4552)، صحیح مسلم/الأقضیة 1 (1711)، سنن الترمذی/الأحکام 12 (1342)، سنن النسائی/آداب القضاة 35 (5427)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 7 (2321)، (تحفة الأشراف: 5752، 5792)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/342، 351، 356، 363) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2514، 1711)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3608
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ الْحُبَابِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ الْمَكَّيُّ، قَالَ عُثْمَانُ، سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلف اور ایک گواہ پر فیصلہ کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3608]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ قسم لے کر فیصلہ فرمایا۔ (مدعی سے قسم لی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأقضیة 2 (1712)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 31 (2370)، (تحفة الأشراف: 6299)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/248، 315، 323) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی مدعی کے پاس ایک ہی گواہ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے حلف لیا، اور یہ حلف ایک گواہ کے قائم مقام مان لیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1712)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3610
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَزَادَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، الْمُؤَذِّنُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الشَّافِعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسُهَيْلٍ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ، وَهُوَ عِنْدِي ثِقَةٌ أَنِّي حَدَّثْتُهُ إِيَّاهُ وَلَا أَحْفَظُهُ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَقَدْ كَانَ أَصَابَتْ سُهَيْلًا عِلَّةٌ أَذْهَبَتْ بَعْضَ عَقْلِهِ وَنَسِيَ بَعْضَ حَدِيثِهِ فَكَانَ سُهَيْلٌ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ، عَنْ رَبِيعَةَ عَنْهُ، عَنْ أَبِيهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھ سے اس حدیث میں «قال: أخبرني الشافعي عن عبدالعزيز» کا اضافہ کیا عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: میں نے اسے سہیل سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھے ربیعہ نے خبر دی ہے اور وہ میرے نزدیک ثقہ ہیں کہ میں نے یہ حدیث ان سے بیان کی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: سہیل کو ایسا مرض ہو گیا تھا جس سے ان کی عقل میں کچھ فتور آ گیا تھا اور وہ کچھ احادیث بھول گئے تھے، تو سہیل بعد میں اسے «عن ربیعہ عن أبیہ» کے واسطے سے روایت کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3610]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ قسم لے کر فیصلہ فرمایا (یعنی مدعی سے قسم لی)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھے اس روایت میں مزید کہا کہ ہمیں امام شافعی رحمہ اللہ نے عبدالعزیز سے روایت کیا، عبدالعزیز نے کہا کہ میں نے سہیل بن ابی صالح سے یہ حدیث پوچھی تو انہوں نے کہا کہ مجھے (میرے شاگرد) ربیعہ الرائی نے بیان کیا اور وہ میرے نزدیک ثقہ اور معتمد ہے، کہا کہ میں (سہیل) ہی نے ربیعہ کو یہ حدیث بیان کی تھی جو مجھے یاد نہیں۔ عبدالعزیز کہتے ہیں کہ جناب سہیل بیمار ہو گئے تھے، جس سے ان کی یادداشت زائل ہو گئی اور انہیں اپنی کئی حدیثیں بھول گئی تھیں، چنانچہ سہیل اس کے بعد یوں سند بیان کیا کرتے تھے کہ مجھے ربیعہ نے مجھ سے روایت کیا کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 13 (1343)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 31 (2368)، (تحفة الأشراف: 12640) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (2368 وسنده صحيح) ورواه الترمذي (1343 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3618
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِإِسْنَادِ ابْنِ مِنْهَالٍ مِثْلَهُ، قَالَ: فِي دَابَّةٍ وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ.
سعید بن ابی عروبہ سے ابن منہال کی سند سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں «في متاع» کے بجائے «في دابة» کے الفاظ ہیں یعنی دو شخصوں نے ایک چوپائے کے سلسلہ میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3618]
جناب سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ نے حجاج بن منہال رحمہ اللہ کی سند سے اس حدیث کے مثل روایت کیا، انہوں نے کہا کہ دو آدمیوں نے ایک جانور کے سلسلے میں جھگڑا کیا اور کسی کے پاس گواہ نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3616)، (تحفة الأشراف: 14662) (صحیح) بما قبلہ» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا (معاذ علي زئي)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں