🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب في أكل اللحم
باب: گوشت کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3781
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ، قَالَ: وَسُمَّ فِي الذِّرَاعِ وَكَانَ يَرَى أَنَّ الْيَهُودَ هُمْ سَمُّوهُ.
اسی سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت بہت پسند تھا، (ایک بار) دست کے گوشت میں زہر ملا دیا گیا، آپ کا خیال تھا کہ یہودیوں نے زہر ملایا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3781]
جناب ابوداؤد (ابوداؤد الطیالسی) نے اسی سند سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی کا گوشت بہت پسند تھا۔ بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی کے گوشت ہی میں زہر دینے کی کوشش کی گئی تھی اور یہ کارستانی یہودیوں نے کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3781]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9233) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي في الشمائل (167)
انظر الحديث السابق (3780)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 134

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4510
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ:" أَنَّ يَهُودِيَّةً مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِيَّةً ثُمَّ أَهْدَتْهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذِّرَاعَ فَأَكَلَ مِنْهَا وَأَكَلَ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ، وَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَدَعَاهَا، فَقَالَ لَهَا: أَسَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ، قَالَتِ الْيَهُودِيَّةُ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي هَذِهِ فِي يَدِي لِلذِّرَاعِ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَرَدْتِ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَتْ: قُلْتُ إِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَنْ يَضُرَّهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْهُ، فَعَفَا عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُعَاقِبْهَا، وَتُوُفِّيَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ الَّذِينَ أَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ، وَاحْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَاهِلِهِ مِنْ أَجْلِ الَّذِي أَكَلَ مِنَ الشَّاةِ، حَجَمَهُ أَبُو هِنْدٍ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَةِ، وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي بَيَاضَةَ مِنْ الْأَنْصَارِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ خیبر کی ایک یہودی عورت نے بھنی ہوئی بکری میں زہر ملایا، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں بھیجا، آپ نے دست کا گوشت لے کر اس میں سے کچھ کھایا، آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت نے بھی کھایا، پھر ان سے آپ نے فرمایا: اپنے ہاتھ روک لو اور آپ نے اس یہودیہ کو بلا بھیجا، اور اس سے سوال کیا: کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟ یہودیہ بولی: آپ کو کس نے بتایا؟ آپ نے فرمایا: دست کے اسی گوشت نے مجھے بتایا جو میرے ہاتھ میں ہے وہ بولی: ہاں (میں نے ملایا تھا)، آپ نے پوچھا: اس سے تیرا کیا ارادہ تھا؟ وہ بولی: میں نے سوچا: اگر نبی ہوں گے تو زہر نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اگر نہیں ہوں گے تو ہم کو ان سے نجات مل جائے گی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا، کوئی سزا نہیں دی، اور آپ کے بعض صحابہ جنہوں نے بکری کا گوشت کھایا تھا انتقال کر گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے گوشت کھانے کی وجہ سے اپنے شانوں کے درمیان پچھنے لگوائے، جسے ابوہند نے آپ کو سینگ اور چھری سے لگایا، ابوہند انصار کے قبیلہ بنی بیاضہ کے غلام تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 4510]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ اہل خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بکری کو آگ پر بھون کر زہر آلود کیا اور پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ دے دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دستی کا حصہ لیا اور کھانے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے صحابہ کرام کی ایک جماعت بھی اس سے کھانے لگی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھ کھینچ لو۔ اور اس عورت کو بلوایا اور اس سے پوچھا: کیا تو نے اس بکری کو زہر آلود کیا ہے؟ وہ یہودن بولی: آپ کو کس نے بتایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس دستی نے بتایا ہے جو میرے ہاتھ میں ہے۔ عورت نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تیرا اس سے کیا ارادہ تھا؟ کہنے لگی: میں نے کہا: اگر یہ نبی ہوا تو اسے یہ ہرگز نقصان نہیں دے گی اور اگر نبی نہ ہوا تو ہم اس سے راحت پا جائیں گے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو معاف کر دیا اور کوئی سزا نہ دی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابہ جنہوں نے اس بکری میں سے کھایا تھا ان میں سے ایک (بشر بن براء بن معرور) وفات پا گئے اور (خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کی وجہ سے اپنے کندھوں کے درمیان میں پچھنے لگوائے۔ یہ پچھنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوہند رضی اللہ عنہ نے گائے کے سینگ اور چھری کے ساتھ لگائے اور ابوہند رضی اللہ عنہ انصار کے قبیلہ بنی بیاضہ کا غلام تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 4510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3006)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 11 (69) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزهري لم يسمع من جابر رضي اللّٰه عنه (تحفة الأشراف 356/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں