🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب فِيمَنْ سَقَى رَجُلاً سَمًّا أَوْ أَطْعَمَهُ فَمَاتَ أَيُقَادُ مِنْهُ
باب: آدمی نے کسی کو زہر پلایا کھلا دیا اور وہ مر گیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4508
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ:" أَنّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: أَرَدْتُ لِأَقْتُلَكَ، فَقَالَ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَلِكَ، أَوْ قَالَ: عَلَيَّ، فَقَالُوا أَلَا نَقْتُلُهَا؟ قَالَ: لَا، فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود بکری لے کر آئی، آپ نے اس میں سے کچھ کھا لیا، تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے اس سلسلے میں اس سے پوچھا، تو اس نے کہا: میرا ارادہ آپ کو مار ڈالنے کا تھا، آپ نے فرمایا: اللہ تجھے کبھی مجھ پر مسلط نہیں کرے گا صحابہ نے عرض کیا: کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں، آپ نے فرمایا: نہیں چنانچہ میں اس کا اثر برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھوں میں دیکھا کرتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4508]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زہر آلود بکری (کا گوشت) لائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کھایا۔ پھر اس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا: میں نے آپ کو قتل کرنا چاہا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تجھے یہ کام نہ کرنے دے گا۔ یا فرمایا: اللہ تجھے مجھ پر مسلط نہ ہونے دے گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس زہر کا اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلق کے کوے میں دیکھتا رہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الھبة 28 (2617)، صحیح مسلم/السلام 18 (2190)، (تحفة الأشراف: 1633)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/281) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2617) صحيح مسلم (2190)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4509
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ. ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وأَبِي سَلَمَةَ قَالَ هَارُونُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:" أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْيَهُودِ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَسْمُومَةً، قَالَ: فَمَا عَرَضَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذِهِ أُخْتُ مَرْحَبٍ الْيَهُودِيَّةُ الَّتِي سَمَّتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود بکری بھیجی، لیکن آپ نے اس عورت سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرحب کی ایک یہودی بہن تھی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4509]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر آلود بکری ہدیہ کی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ یہودی عورت مرحب کی بہن تھی جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دینے کی کوشش کی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15140، 13122، 15140)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجزیة 7 (3169)، المغازي 41 (4249)، الطب 55 (5777) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سفیان بن حسین کی زہری سے روایت میں ضعف ہے، لیکن اصل حدیث صحیح ہے اور صحیح بخاری میں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان بن حسين : ضعيف في الزهري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 158

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4510
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ:" أَنَّ يَهُودِيَّةً مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِيَّةً ثُمَّ أَهْدَتْهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذِّرَاعَ فَأَكَلَ مِنْهَا وَأَكَلَ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ، وَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَدَعَاهَا، فَقَالَ لَهَا: أَسَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ، قَالَتِ الْيَهُودِيَّةُ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي هَذِهِ فِي يَدِي لِلذِّرَاعِ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَرَدْتِ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَتْ: قُلْتُ إِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَنْ يَضُرَّهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْهُ، فَعَفَا عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُعَاقِبْهَا، وَتُوُفِّيَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ الَّذِينَ أَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ، وَاحْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَاهِلِهِ مِنْ أَجْلِ الَّذِي أَكَلَ مِنَ الشَّاةِ، حَجَمَهُ أَبُو هِنْدٍ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَةِ، وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي بَيَاضَةَ مِنْ الْأَنْصَارِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ خیبر کی ایک یہودی عورت نے بھنی ہوئی بکری میں زہر ملایا، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں بھیجا، آپ نے دست کا گوشت لے کر اس میں سے کچھ کھایا، آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت نے بھی کھایا، پھر ان سے آپ نے فرمایا: اپنے ہاتھ روک لو اور آپ نے اس یہودیہ کو بلا بھیجا، اور اس سے سوال کیا: کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟ یہودیہ بولی: آپ کو کس نے بتایا؟ آپ نے فرمایا: دست کے اسی گوشت نے مجھے بتایا جو میرے ہاتھ میں ہے وہ بولی: ہاں (میں نے ملایا تھا)، آپ نے پوچھا: اس سے تیرا کیا ارادہ تھا؟ وہ بولی: میں نے سوچا: اگر نبی ہوں گے تو زہر نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اگر نہیں ہوں گے تو ہم کو ان سے نجات مل جائے گی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا، کوئی سزا نہیں دی، اور آپ کے بعض صحابہ جنہوں نے بکری کا گوشت کھایا تھا انتقال کر گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے گوشت کھانے کی وجہ سے اپنے شانوں کے درمیان پچھنے لگوائے، جسے ابوہند نے آپ کو سینگ اور چھری سے لگایا، ابوہند انصار کے قبیلہ بنی بیاضہ کے غلام تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4510]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ اہل خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بکری کو آگ پر بھون کر زہر آلود کیا اور پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ دے دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دستی کا حصہ لیا اور کھانے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے صحابہ کرام کی ایک جماعت بھی اس سے کھانے لگی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھ کھینچ لو۔ اور اس عورت کو بلوایا اور اس سے پوچھا: کیا تو نے اس بکری کو زہر آلود کیا ہے؟ وہ یہودن بولی: آپ کو کس نے بتایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس دستی نے بتایا ہے جو میرے ہاتھ میں ہے۔ عورت نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تیرا اس سے کیا ارادہ تھا؟ کہنے لگی: میں نے کہا: اگر یہ نبی ہوا تو اسے یہ ہرگز نقصان نہیں دے گی اور اگر نبی نہ ہوا تو ہم اس سے راحت پا جائیں گے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو معاف کر دیا اور کوئی سزا نہ دی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابہ جنہوں نے اس بکری میں سے کھایا تھا ان میں سے ایک (بشر بن براء بن معرور) وفات پا گئے اور (خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کی وجہ سے اپنے کندھوں کے درمیان میں پچھنے لگوائے۔ یہ پچھنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوہند رضی اللہ عنہ نے گائے کے سینگ اور چھری کے ساتھ لگائے اور ابوہند رضی اللہ عنہ انصار کے قبیلہ بنی بیاضہ کا غلام تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3006)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 11 (69) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزهري لم يسمع من جابر رضي اللّٰه عنه (تحفة الأشراف 356/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4511
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَتْ لَهُ يَهُودِيَّةٌ بِخَيْبَرَ شَاةً مَصْلِيَّةً، نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ، قَالَ: فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ: مَا حَمَلَكِ عَلَى الَّذِي صَنَعْتِ؟ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَتْ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الْحِجَامَةِ.
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کی ایک یہودی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی، پھر راوی نے ویسے ہی بیان کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے، ابوسلمہ کہتے ہیں: پھر بشر بن براء بن معرور انصاری فوت ہو گئے، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا بھیجا اور فرمایا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا: تو وہ قتل کر دی گئی، اور انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4511]
سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر میں ایک یہودی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بھنی ہوئی بکری ہدیہ کی، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کی مانند روایت کیا، کہا کہ پھر سیدنا بشر بن براء بن معرور انصاری رضی اللہ عنہ (اس کی وجہ سے) فوت ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودن کو بلوایا (اور اس سے پوچھا): تجھے اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ تو حدیثِ جابر کی مانند ذکر کیا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے قتل کر دیا گیا، اور پچھنے لگوانے کا معاملہ اس میں ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (4509)، (تحفة الأشراف: 13122) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (ابوسلمہ نے اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے، لیکن اس سے پہلے اور بعد کی حدیثوں میں صراحت ہے ملاحظہ ہو نمبر: 4509 اور 4512)
وضاحت: ۱؎: اس سے پہلی والی حدیث میں معاف کر دیئے جانے کا ذکر ہے، جبکہ اس حدیث میں قتل کئے جانے کا ذکر ہے، قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ شروع میں جب زہر کھلانے کا علم ہوا، اور کہا گیا کہ اسے قتل کر دیا جائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لیکن جب اس زہر کی وجہ سے بشر بن البراء بن معرور انتقال کرگئے تب آپ نے اس یہودیہ کو ان کے ورثہ کے حوالے کر دیا، پھر وہ بطور قصاص قتل کی گئی۔ (عون المعبود ۱۲؍ ۱۴۹)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث الآتي (4512)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4512
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ"، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، زَادَ: فَأَهْدَتْ لَهُ يَهُودِيَّةٌ بِخَيْبَرَ شَاةً مَصْلِيَّةً سَمَّتْهَا، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا وَأَكَلَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّهَا أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ، فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ: مَا حَمَلَكِ عَلَى الَّذِي صَنَعْتِ؟ قَالَتْ: إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ الَّذِي صَنَعْتُ وَإِنْ كُنْتَ مَلِكًا أَرَحْتُ النَّاسَ مِنْكَ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَتْ، ثُمَّ قَالَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: مَا زِلْتُ أَجِدُ مِنَ الْأَكْلَةِ الَّتِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ قَطَعَتْ أَبْهَرِي.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، نیز اسی سند سے ایک اور مقام پر ابوہریرہ کے ذکر کے بغیر صرف ابوسلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ کو خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی جس میں اس نے زہر ملا رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا اور لوگوں نے بھی کھایا، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: اپنے ہاتھ روک لو، اس (گوشت) نے مجھے بتایا ہے کہ وہ زہر آلود ہے چنانچہ بشر بن براء بن معرور انصاری مر گئے، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا کر فرمایا: ایسا کرنے پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا؟ وہ بولی: اگر آپ نبی ہیں تو جو میں نے کیا ہے وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور اگر آپ بادشاہ ہیں تو میں نے لوگوں کو آپ سے نجات دلا دی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ قتل کر دی گئی، پھر آپ نے اپنی اس تکلیف کے بارے میں فرمایا: جس میں آپ نے وفات پائی کہ میں برابر خیبر کے اس کھانے کے اثر کو محسوس کرتا رہا یہاں تک کہ اب وہ وقت آ گیا کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4512]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرما لیتے تھے اور صدقہ نہ کھایا کرتے تھے۔ سیدنا ابوسلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ ذکر نہیں کیا، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرما لیتے اور صدقہ نہیں کھایا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15025)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/359) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4513
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ أُمَّ مُبَشِّرٍ، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ" مَا يُتَّهَمُ بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُ بِابْنِي شَيْئًا إِلَّا الشَّاةَ الْمَسْمُومَةَ الَّتِي أَكَلَ مَعَكَ بِخَيْبَرَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَنَا لَا أَتَّهِمُ بِنَفْسِي إِلَّا ذَلِكَ، فَهَذَا أَوَانُ قَطَعَتْ أَبْهَرِي"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُبَّمَا حَدَّثَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُرْسَلًا، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُبَّمَا حَدَّثَ بِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَذَكَرَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَنَّ مَعْمَرًا كَانَ يُحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مَرَّةً مُرْسَلًا فَيَكْتُبُونَهُ وَيُحَدِّثُهُمْ مَرَّةً بِهِ فَيُسْنِدُهُ فَيَكْتُبُونَهُ وَكُلٌّ صَحِيحٌ عِنْدَنَا، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: فَلَمَّا قَدِمَ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَلَى مَعْمَرٍ، أَسْنَدَ لَهُ مَعْمَرٌ أَحَادِيثَ كَانَ يُوقِفُهَا.
کعب بن مالک روایت کرتے ہیں کہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مرض میں جس میں آپ نے وفات پائی کہا: اللہ کے رسول! آپ کا شک کس چیز پر ہے؟ میرے بیٹے کے سلسلہ میں میرا شک تو اس زہر آلود بکری پر ہے جو اس نے آپ کے ساتھ خیبر میں کھائی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے سلسلہ میں بھی میرا شک اسی پر ہے، اور اب یہ وقت آ چکا ہے کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرزاق نے کبھی اس حدیث کو معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور کبھی معمر نے اسے زہری سے اور، زہری نے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔ اور عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے کہ معمر اس حدیث کو ان سے کبھی مرسلاً روایت کرتے تو وہ اسے لکھ لیتے اور کبھی مسنداً روایت کرتے تو بھی وہ اسے بھی لکھ لیتے، اور ہمارے نزدیک دونوں صحیح ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: جب ابن مبارک معمر کے پاس آئے تو معمر نے وہ تمام حدیثیں جنہیں وہ موقوفاً روایت کرتے تھے ان سے متصلًا روایت کیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4513]
جناب عبدالرحمٰن اپنے والد سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جس بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ان دنوں میں ام مبشر رضی اللہ عنہا (زوجہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیا گمان کرتے ہیں؟ میں اپنے بیٹے کے متعلق یہی سمجھتی ہوں کہ وہ زہر آلود بکری جو اس نے آپ کے ساتھ خیبر میں کھائی تھی وہ اسی سے متاثر ہوا تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی اپنے متعلق اسی کا گمان ہے اور یہ وقت آ گیا ہے کہ میری شاہ رگیں کٹ رہی ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام عبدالرزاق رحمہ اللہ نے یہ روایت کئی بار بسندِ معمر بواسطہ زہری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل، اور کئی بار «الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ» زہری بحوالہ عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کے واسطے سے موصول روایت کی ہے۔ عبدالرزاق رحمہ اللہ نے کہا: معمر جب یہ روایت مرسل بیان کرتے تو ہم اسی طرح لکھ لیتے تھے اور جب مسند روایت کرتے تو ہم اسی طرح لکھ لیتے اور ہمارے نزدیک یہ سب صحیح ہیں۔ عبدالرزاق رحمہ اللہ نے بتایا کہ جب ابن مبارک رحمہ اللہ معمر کے ہاں گئے تو انہوں نے وہ تمام احادیث جو وہ موقوف بیان کیا کرتے تھے ابن مبارک رحمہ اللہ کو مسند روایت کیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11139، 19815، 18358، 18375)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/18) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4512)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4514
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ مُبَشِّرٍ، قَالَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ: كَذَا قَالَ: عَنْ أُمِّهِ، وَالصَّوَابُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَخْلَدِ بْنِ خَالِدٍ، نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ، قَالَ: فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكِ عَلَى الَّذِي صَنَعْتِ؟، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَابِرٍ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَتْ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْحِجَامَةَ.
ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں پھر راوی نے مخلد بن خالد کی حدیث کا مفہوم اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی روایت میں ہے، اس میں ہے کہ بشر بن براء بن معرور مر گئے، تو آپ نے یہودی عورت کو بلا بھیجا اور پوچھا: یہ تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ پھر راوی نے وہی باتیں ذکر کیں جو جابر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ قتل کر دی گئی لیکن انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4514]
ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور مخلد بن خالد (کی مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی) بیان کیا۔ جیسے کہ حدیث جابر میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت بشر بن براء بن معرور وفات پا گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور اس سے پوچھا: تجھے اس کارستانی پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اور جابر کی حدیث کی مانند روایت کیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے قتل کر دیا گیا اور پچھنے لگوانے کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11139، 18358) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4512)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں