🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب ما جاء في المشرك يدخل المسجد
باب: مشرک مسجد میں داخل ہو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 486
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَبْتُكَ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي سَائِلُكَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، پھر پوچھا: تم میں محمد کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ان (لوگوں) کے بیچ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، ہم نے اس سے کہا: یہ گورے شخص ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، پھر اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی، (کہو کیا کہنا چاہتے ہو)، تو اس شخص نے کہا: محمد! میں آپ سے پوچھتا ہوں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 486]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا، وہ اونٹ پر تھا، اس نے اونٹ کو مسجد (کے احاطے) میں بٹھایا، پھر اسے باندھا، پھر کہا: تم میں سے محمد کون ہے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: یہ جو گورا چٹا شخص ٹیک لگائے ہوئے ہیں (یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں)۔ تو اس آدمی نے آپ سے کہا: اے ابن عبدالمطلب! آپ نے فرمایا: جواب دے رہا ہوں۔ اس نے کہا: اے محمد! میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں، اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العلم 6 (63)، سنن النسائی/الصیام 1 (2094)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 194 (1402)، (تحفة الأشراف: 907)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 3 (10)، سنن الترمذی/الزکاة 2 (619)، مسند احمد (3/143، 193)، سنن الدارمی/الصلاة 140 (1470) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مسجد میں داخل ہونے والا شخص مشرک تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (63)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 487
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: فَقَالَ: أَيُّكُمْ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنی سعد بن بکرنے ضمام بن ثعلبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، وہ آپ کے پاس آئے انہوں نے اپنا اونٹ مسجد کے دروازے پر بٹھایا اور اسے باندھ دیا پھر مسجد میں داخل ہوئے، پھر محمد بن عمرو نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے اس نے کہا: تم میں عبدالمطلب کا بیٹا کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدالمطلب کا بیٹا میں ہوں، تو اس نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! اور راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 487]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے آ کر اپنا اونٹ دروازے کے پاس بٹھایا، پھر اسے باندھا اور مسجد کے اندر آ گیا اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔ اس نے کہا: تم میں سے ابن عبدالمطلب کون ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ابن عبدالمطلب ہوں۔ اس نے کہا: اے ابن عبدالمطلب! اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6353)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/250، 264، 265) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: صحیح بخاری میں یہ روایت مفصل آئی ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوالات پوچھے آپ نے ان سوالات کے جوابات دئیے پھر یہ ایمان لے آئے تھے (صحیح بخاری حدیث ۶۳) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلم یہود، نصاریٰ، ہندو یا مجوسی وغیرہ کوئی بھی ہوں کسی بھی معقول ضرورت سے مسجدوں میں آ سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں