سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. باب في تغيير الأسماء
باب: نام بدل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4949
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى: عَبْدُ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4949]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب ناموں میں سے عبداللہ اور عبدالرحمٰن اللہ عزوجل کو بہت ہی پیارے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأداب 1 (2132)، (تحفة الأشراف: 7920)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 64 (2836)، سنن الدارمی/الاستئذان 60 (2737) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2132)
حدیث نمبر: 4950
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ: عَبْدُ اللَّهِ،وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَصْدَقُهَا: حَارِثٌ، وَهَمَّامٌ، وَأَقْبَحُهَا: حَرْبٌ، وَمُرَّةُ".
ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ، انہیں شرف صحبت حاصل ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء کے نام رکھا کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب و پسندیدہ نام ”عبداللہ“ اور ”عبدالرحمٰن“ ہیں، اور سب سے سچے نام ”حارث“ و ”ہمام“ ہیں ۱؎، اور سب سے نا پسندیدہ و قبیح نام ”حرب“ و ”مرہ“ ہیں ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4950]
سیدنا ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء کے نام رکھا کرو اور اللہ کو سب ناموں میں زیادہ محبوب «عَبْدُ اللهِ» ”عبداللہ“ اور «عَبْدُ الرَّحْمَنِ» ”عبدالرحمٰن“ ہیں۔ سب سے بڑھ کر واقعیت سے قریب یہ نام ہیں، «حَارِثٌ» ”حارث“ (کھیتی باڑی کرنے والا) اور «هَمَّامٌ» ”ہمام“ (رنج و فکر میں پڑا ہوا) اور یہ نام سب سے برے ہیں، «حَرْبٌ» ”حرب“ (لڑاکا) اور «مُرَّةُ» ”مرہ“ (کڑوا)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4950]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الخیل 2 (3595)، (تحفة الأشراف: 15521)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/345) (صحیح)(اس میں تسموا باسماء الأنبیاء کاٹکڑاصحیح نہیں ہے) (الصحیحة 1040،904، والارواء 1178 وتراجع الالبانی 46)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ یہ دونوں اپنے مشتق منہ سے معنوی طور پر مطابقت رکھتے ہیں چنانچہ حارث کے معنی ہیں کمانے والا، اور ہمام کے معنی قصد و ارادہ رکھنے والے کے ہیں، اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو قصد وارادہ سے خالی ہو، یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں نام سچے ہیں۔
۲؎: ان دونوں ناموں میں ان کے ذاتی وصف کے اعتبار سے جو قباحت ہے وہ بالکل واضح ہے۔
۲؎: ان دونوں ناموں میں ان کے ذاتی وصف کے اعتبار سے جو قباحت ہے وہ بالکل واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله تسموا بأسماء الأنبياء
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3595)
ولبعض الحديث شواهد صحيحة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172
إسناده ضعيف
نسائي (3595)
ولبعض الحديث شواهد صحيحة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172