🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
86. باب في صلاة العتمة
باب: نماز عشاء کو عتمہ کہنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4985
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ، قَالَ مِسْعَرٌ: أُرَاهُ مِنْ خُزَاعَةَ:" لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ، فَكَأَنَّهُمْ عَابُوا عَلَيْهِ ذَلِكَ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَا بِلَالُ، أَقِمْ الصَّلَاةَ أَرِحْنَا بِهَا".
سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: کاش میں نماز پڑھ لیتا تو مجھے سکون مل جاتا، مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے یہ بنو خزاعہ کا کوئی آدمی تھا، تو لوگوں نے اس پر نکیر کی کہ یہ نماز کو تکلیف کی چیز سمجھتا ہے تو اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: اے بلال نماز کے لیے اقامت کہو اور ہمیں اس سے آرام و سکون پہنچاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4985]
جناب سالم بن ابی جعد سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا، مسعر کا خیال ہے کہ وہ قبیلہ خزاعہ سے تھا: کاش میں نماز پڑھ لیتا تو سکون پاتا۔ تو دوسرے لوگوں نے گویا اس کے اس انداز پر عیب لگایا، تو اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «يَا بِلَالُ، أَقِمِ الصَّلَاةَ، أَرِحْنَا بِهَا» بلال! نماز کی اقامت کہو، ہمیں اس سے راحت پہنچاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4985]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15576)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/364) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1253)
صالح بن أبي الجعد برئ من التدليس

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4986
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي إِلَى صِهْرٍ لَنَا مِنْ الْأَنْصَارِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ لِبَعْضِ أَهْلِهِ: يَا جَارِيَةُ، ائْتُونِي بِوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ , قال: فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" قُمْ يَا بِلَالُ، فَأَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ".
عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں میں اور میرے والد انصار میں سے اپنے ایک سسرالی رشتہ دار کے پاس اس کی (عیادت) بیمار پرسی کرنے کے لیے گئے، تو نماز کا وقت ہو گیا، تو اس نے اپنے گھر کی کسی لڑکی سے کہا: اے لڑکی! میرے لیے وضو کا پانی لے آتا کہ میں نماز پڑھ کر راحت پا لوں تو اس پر ہم نے ان کی نکیر کی، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے اے بلال اٹھو اور ہمیں نماز سے آرام پہنچاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4986]
جناب عبداللہ بن محمد ابن حنفیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے والد انصاریوں میں ہمارے سسرالیوں کے ہاں عیادت کے لیے گئے تو نماز کا وقت ہو گیا۔ تو انہوں نے اپنے گھر والوں میں سے کسی کو کہا: اے لڑکی! وضو کے لیے پانی لاؤ، شاید میں نماز پڑھ لوں تو راحت پاؤں۔ تو ہم نے ان کا یہ جملہ پسند نہ کیا۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «يَا بِلَالُ، أَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ» اے بلال! اٹھو ہمیں نماز کے ساتھ راحت پہنچاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4986]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15616)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/371) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الحديث السابق (4985) شاھد له

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں