سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
157. باب في قبلة الرجل ولده
باب: آدمی اپنے بچے کا بوسہ لے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 5219
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ: أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: ثُمَّ قَالَ: تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ , فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكِ , وَقَرَأَ عَلَيْهَا الْقُرْآنَ , فَقَالَ أَبَوَايَ: قُومِي , فَقَبِّلِي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: أَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا إِيَّاكُمَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! خوش ہو جاؤ اللہ نے کلام پاک میں تیرے عذر سے متعلق آیت نازل فرما دی ہے“ اور پھر آپ نے قرآن پاک کی وہ آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں، تو اس وقت میرے والدین نے کہا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو چوم لو، میں نے کہا: میں تو اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتی ہوں (کہ اس نے میری پاکدامنی کے متعلق آیتیں اتاریں) نہ کہ آپ دونوں کا (کیونکہ آپ دونوں کو بھی تو مجھ پر شبہ ہونے لگا تھا)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5219]
جناب عروہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (واقعہ افک کے سلسلے میں بیان کرتے ہوئے) کہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! خوشخبری ہو، اللہ عزوجل نے تیری براءت نازل فرما دی ہے۔“ اور اسے قرآن مجید کی آیات پڑھ کر سنائیں، تو میرے ماں باپ نے مجھے کہا: ”اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کو بوسہ دو۔“ تو میں نے کہا: ”میں اللہ عزوجل کی حمد کرتی ہوں، تم دونوں کی نہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 16879)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة النور 6 (4750)، صحیح مسلم/التوبة 10 (2770)، مسند احمد (6/59) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وھذا طرف من حديث الإفك رواه البخاري (2661، 4750) ومسلم (2770)
وھذا طرف من حديث الإفك رواه البخاري (2661، 4750) ومسلم (2770)
حدیث نمبر: 785
حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَذَكَرَ الْإِفْكَ، قَالَتْ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَالَ:" أَعُوذُ بِالسَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ سورة النور آية 11 الْآيَةَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، لَمْ يَذْكُرُوا هَذَا الْكَلَامَ عَلَى هَذَا الشَّرْحِ، وَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنْ كَلَامِ حُمَيْدٍ.
عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے واقعہ افک کا ذکر کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور آپ نے اپنا چہرہ کھولا اور فرمایا: «أعوذ بالسميع العليم من الشيطان الرجيم * إن الذين جاءوا بالإفك عصبة منكم» ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، اسے ایک جماعت نے زہری سے روایت کیا ہے مگر ان لوگوں نے یہ بات اس انداز سے ذکر نہیں کی اور مجھے اندیشہ ہے کہ استعاذہ کا معاملہ خود حمید کا کلام ہو۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 785]
عروہ رحمہ اللہ کے واسطہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اور عروہ رحمہ اللہ نے قصہ افک کا ذکر کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: «أَعُوذُ بِالسَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں شیطان مردود سے خوب سننے والے اور خوب جاننے والے (اللہ) کی پناہ مانگتا ہوں“ ﴿إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ﴾ [سورة النور: 11] ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”یہ حدیث منکر ہے، اسے زہری سے محدثین کی جماعت نے روایت کیا ہے مگر انہوں نے یہ کلام (یعنی تعوذ) اس طریقے سے (یعنی یہاں پر) ذکر نہیں کیا اور مجھے اندیشہ ہے کہ شیطان سے تعوذ کا بیان حمید کا کلام ہو گا“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 785]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16424)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/197) (ضعیف شاذ)» (یہ حدیث شاذ اس لئے ہے کہ حمید اگرچہ ثقہ ہیں مگر انہوں نے ثقہ جماعت کی مخالفت کی ہے)
وضاحت: ۱؎: ” یعنی بے شک جو لوگ بہت بڑا بہتان باندھ لائے ہیں یہ بھی تم ہی میں سے ایک گروہ ہے “ (سورہ نور: ۱۱)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري عنعن وھو مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41
إسناده ضعيف
الزھري عنعن وھو مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41
حدیث نمبر: 4474
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، وَهَذَا حَدِيثُهُ: أَنَّ ابْنَ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ ذَاكَ وَتَلَا تَعْنِي الْقُرْآنَ فَلَمَّا نَزَلَ مِنَ الْمِنْبَرِ أَمَرَ بِالرَّجُلَيْنِ وَالْمَرْأَةِ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری برات کی آیتیں نازل ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، آپ نے اس کا ذکر کیا، اور قرآن کی ان آیتوں کی تلاوت کی، پھر جب منبر پر سے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کے سلسلے میں حکم دیا تو ان پر حد جاری کیا گیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 4474]
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”جب میری برات کی آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا اور قرآن کی آیات تلاوت فرمائیں۔ جب منبر سے نیچے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا اور انہیں حد لگائی گئی۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 4474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر النور 25 (3181)، سنن ابن ماجہ/الحدود (2567)، (تحفة الأشراف: 17898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/286، 6/35، 61) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3579)
أخرجه الترمذي (3181 وسنده حسن) وابن ماجه (2567 وسنده حسن) محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند البيھقي (8/ 250)
مشكوة المصابيح (3579)
أخرجه الترمذي (3181 وسنده حسن) وابن ماجه (2567 وسنده حسن) محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند البيھقي (8/ 250)
حدیث نمبر: 4735
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أنبأنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ، وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ , قَالَتْ:" وَلَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میرے جی میں میرا معاملہ اس سے کمتر تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی گفتگو فرمائے گا کہ وہ ہمیشہ تلاوت کی جائے گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 4735]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ: ”میں اپنے آپ کو اس بات سے بہت ہیچ سمجھتی تھی کہ اللہ عزوجل میری برات کے سلسلے میں کوئی ایسا کلام فرمائے گا جس کی تلاوت کی جائے گی۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 4735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشھادت 15 (2661)، المغازي 12 (4025)، 34 (4141)، صحیح مسلم/التوبة 10 (2770)، (تحفة الأشراف: 16126، 16128، 16311، 16576، 17409، 17412) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کلام کرے، اور قرآن میں اس کو نازل فرما دے جو ہمیشہ تلاوت کیا جائے، ان کا اشارہ واقعہ افک کی طرف تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
رواه البخاري (7500) ومسلم (2770) مطولًا
رواه البخاري (7500) ومسلم (2770) مطولًا