سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
141. باب ما يجزئ الأمي والأعجمي من القراءة
باب: ان پڑھ (اُمّی) اور عجمی کے لیے کتنی قرآت کافی ہے؟
حدیث نمبر: 831
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ وَفَاءِ بْنِ شُرَيْحٍ الصَّدَفِيِّ،عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ نَقْتَرِئُ، فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ، كِتَابُ اللَّهِ وَاحِدٌ، وَفِيكُمُ الْأَحْمَرُ وَفِيكُمُ الْأَبْيَضُ وَفِيكُمُ الْأَسْوَدُ، اقْرَءُوهُ قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَهُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ السَّهْمُ يُتَعَجَّلُ أَجْرُهُ وَلَا يُتَأَجَّلُهُ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الحمداللہ! اللہ کی کتاب ایک ہے اور تم لوگوں میں اس کی تلاوت کرنے والے سرخ، سفید، سیاہ سب طرح کے لوگ ہیں، تم اسے پڑھو قبل اس کے کہ ایسے لوگ آ کر اسے پڑھیں، جو اسے اسی طرح درست کریں گے، جس طرح تیر کو درست کیا جاتا ہے، اس کا بدلہ (ثواب) دنیا ہی میں لے لیا جائے گا اور اسے آخرت کے لیے نہیں رکھا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 831]
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلس میں تشریف لائے جب کہ ہم قرآن پڑھ پڑھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، کتاب اللہ ایک ہے اور تم (پڑھنے والوں) میں سرخ، سفید اور کالے سبھی لوگ ہیں۔ اسے پڑھے جاؤ! قبل اس کے کہ وہ لوگ اس کی قراءت شروع کر دیں جو اسے ایسے سیدھا کریں گے جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے اور اس کا اجر جلد ہی (دنیا میں) لینا چاہیں گے، اسے (آخرت تک) مؤخر نہ کریں گے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود: 5(338)، (تحفة الأشراف: 4807) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
وفاء بن شريح مجهول الحال لم يوثقه غير ابن حبان
والحديث السابق (الأصل : 830) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 43
إسناده ضعيف
وفاء بن شريح مجهول الحال لم يوثقه غير ابن حبان
والحديث السابق (الأصل : 830) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 43
حدیث نمبر: 830
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَفِينَا الْأَعْرَابِيُّ وَالْأَعْجَمِيُّ، فَقَالَ:" اقْرَءُوا فَكُلٌّ حَسَنٌ، وَسَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم میں بدوی بھی تھے اور عجمی بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑھو سب ٹھیک ہے عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو اسے (یعنی قرآن کے الفاظ و کلمات کو) اسی طرح درست کریں گے جیسے تیر درست کیا جاتا ہے (یعنی تجوید و قرآت میں مبالغہ کریں گے) اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کے بجائے جلدی جلدی پڑھیں گے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 830]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلس میں تشریف لائے جبکہ ہم قرآن پڑھ رہے تھے، ہم میں دیہاتی بھی تھے اور غیر عرب بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑھے جاؤ، سب ہی بہتر ہے۔ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اسے (قراءت قرآن کو) ایسے سیدھا کریں گے جیسے کہ تیر سیدھا کیا جاتا ہے۔ اس کا اجر (دنیا میں) جلد ہی لینا چاہیں گے اور (آخرت تک) مؤخر نہیں کریں گے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/357، 397) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2206)
مشكوة المصابيح (2206)