🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : تعظيم حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم والتغليظ على من عارضه
باب: حدیث نبوی کی تعظیم و توقیر اور مخالفین سنت کے لیے سخت گناہ کی وعید۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ، حَدَّثَنَا الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا أَعْرِفَنَّ مَا يُحَدَّثُ أَحَدُكُمْ عَنِّي الْحَدِيثَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ، فَيَقُولُ: اقْرَأْ قُرْآنًا، مَا قِيلَ مِنْ قَوْلٍ حَسَنٍ فَأَنَا قُلْتُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ ہرگز نہ پاؤں کہ تم میں سے کسی سے میری حدیث بیان کی جا رہی ہو اور وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے یہ کہتا ہو: قرآن پڑھو، سنو! جو بھی اچھی بات کہی گئی ہے وہ میری ہی کہی ہوئی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 21]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے علم میں یہ بات نہیں آنی چاہیے (اس سے اجتناب کرو) کہ تم میں سے کسی کو میری حدیث سنائی جائے اور وہ اپنے پلنگ پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور (میری حدیث سن کر) کہہ دے: قرآن پڑھو۔ (بات یہ ہے کہ) جو بھی اچھی بات کہی گئی ہے وہ میں نے کہی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 21]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14336) (ضعیف جدًا) (سند میں عبد اللہ بن سعید المقبری متروک روای ہیں)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
عبد اللّٰه بن سعيد المقبري: متروك
وللحديث طريق آخر: ضعيف / عند أحمد (483/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 375

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ الْكِنْدِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُوشِكُ الرَّجُلُ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ، يُحَدَّثُ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِي، فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلا وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ".
مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس سے میری کوئی حدیث بیان کی جائے تو وہ کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کافی ہے، ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور جو چیز حرام پائیں گے اسی کو حرام جانیں گے، تو سن لو! جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے وہ ویسے ہی ہے جیسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 12]
حضرت مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب (ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ) آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوگا، اسے میری کوئی حدیث سنائی جائے گی تو کہے گا: ہمارے اور تمہارے درمیان (فیصلہ کرنے والی) اللہ عزوجل کی کتاب ہے۔ ہمیں اس میں جو چیز حلال ملے گی، اسے حلال مانیں گے اور جو چیز اس میں حرام پائیں گے، ہم اسے حرام قرار دیں گے۔ سن لو! جو کچھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام فرمایا، وہ بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح اللہ کا حرام کیا ہوا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 12]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/العلم 10 (2664)، (تحفة الأشراف: 11553)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة 6 (4604)، مسند احمد (4/132)، سنن الدارمی/المقدمة 49، (606) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فِي بَيْتِهِ أَنَا سَأَلْتُهُ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْر ، ثُمَّ مَرَّ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ: أَو زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے ہو، اور اس کے پاس جن چیزوں کا میں نے حکم دیا ہے، یا جن چیزوں سے منع کیا ہے میں سے کوئی بات پہنچے تو وہ یہ کہے کہ میں نہیں جانتا، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو چیز پائی اس کی پیروی کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 13]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ پلنگ پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو، اسے میرے احکام میں سے کوئی حکم یا ممانعت پہنچے اور وہ کہہ دے: میں نہیں جانتا، ہم جو کچھ اللہ کی کتاب میں پائیں گے، اس کی پیروی کریں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 13]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/السنة 6 (4605)، سنن الترمذی/العلم 10 (2663)، (تحفة الأشراف: 12019)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/367) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں