سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ : الاِرْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ
باب: پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 339
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، فَقَالَ لِي:" ائْتِ تِلْكَ الْأَشَاءَتَيْنِ"، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي النَّخْلَ الصِّغَارَ، قَالَ أبُو بَكْرٍ: فَقُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا، فَاجْتَمَعَتَا فَاسْتَتَرَ بِهِمَا فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ قَالَ لِي:" ائْتِهِمَا، فَقُلْ لَهُمَا: لِتَرْجِعْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا"، فَقُلْتُ لَهُمَا فَرَجَعَتَا.
مرہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا اور مجھ سے کہا: ”تم کھجور کے ان دونوں چھوٹے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں باہم مل جانے کا حکم دے رہے ہیں“، چنانچہ حکم پاتے ہی وہ دونوں درخت باہم مل گئے ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آڑ میں قضائے حاجت کی اور پھر مجھ سے فرمایا: ”ان دونوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ جائیں“۔ مرہ کہتے ہیں: میں نے جا کر ان سے یہ کہا تو وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 339]
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد (مرہ بن وہب ثقفی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا تو مجھ سے فرمایا: ”کھجور کے ان دو چھوٹے پودوں کے پاس جا کر انہیں کہو: اللہ کے رسول تمہیں حکم دیتے ہیں کہ آپس میں مل جاؤ“ چنانچہ وہ مل گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ذریعے پردہ فرما کر حاجت پوری کی، پھر مجھ سے فرمایا: ”ان کے پاس جا کر کہو: تم میں سے ہر پودا اپنی اپنی جگہ واپس چلا جائے۔“ میں نے انہیں کہا تو وہ اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11249، ومصباح الزجاجة: 140)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/172) (صحیح)» (سند میں ضعف ہے اس لئے کہ منہال کا سماع یعلی بن مرہ سے نہیں ہے، لیکن دوسرے شواہد اور طرق سے یہ صحیح ہے، (ملاحظہ ہو: زہد وکیع (509) تحقیق سنن ابی داود/عبد الرحمن الفریوائی)
وضاحت: ۱؎: مصباح الزجاجہ (۱۳۸) میں اس کے بعد: «قال أبوبكر القصار» کا اضافہ کیا ہے، اور ایسے ہی مشہور حسن کے یہاں ہے، لیکن سند میں ”ابوبكر“ کا ذکر نہیں ہے) ۲؎: درخت کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے چلے آنا آپ کا معجزہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 4028
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ؟ قَدْ خُضِّبَ بِالدِّمَاءِ قَدْ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ , فَقَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ:" فَعَلَ بِي هَؤُلَاءِ وَفَعَلُوا" , قَالَ: أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً؟ قَالَ:" نَعَمْ أَرِنِي" , فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي , قَالَ: ادْعُ تِلْكَ الشَّجَرَةَ فَدَعَاهَا , فَجَاءَتْ تَمْشِي حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ , قَالَ: قُلْ لَهَا فَلْتَرْجِعْ , فَقَالَ لَهَا: فَرَجَعَتْ حَتَّى عَادَتْ إِلَى مَكَانِهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَسْبِي".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے، اور لہولہان تھے، اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو خشت زنی کر کے لہولہان کر دیا تھا، انہوں نے کہا: آپ کو کیا ہو گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے“، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں دکھائیے“، پھر جبرائیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا، اور کہا: آپ اس درخت کو بلائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آواز دی، وہ آ کر آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر انہوں نے کہا: آپ اس سے کہیے کہ وہ واپس جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس جانے کو کہا، تو وہ اپنی جگہ چلا گیا، (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے یہ نشانی (معجزہ) ہی کافی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 4028]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک دن حضرت جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غمگین بیٹھے ہوئے تھے۔ مکہ کے لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خشت زنی کر کے لہو لہان کر دیا تھا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: ”کیا بات ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ ظلم کیا ہے۔“ حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا: ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں کہ آپ کو ایک نشانی دکھاؤں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں دکھائیے۔“ انہوں نے وادی کی دوسری طرف ایک درخت کی طرف دیکھ کر کہا: ”اس درخت کو بلائیے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ چل کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: ”اسے کہیے واپس چلا جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا تو وہ واپس ہو گیا حتیٰ کہ اپنی جگہ پر چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کافی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 4028]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف (925، ومصباح الزجاجة: 1419)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/113)، سنن الدارمی/المقدمة 4 (23) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520