🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : بدء الأذان
باب: اذان کی ابتداء کیسے ہوئی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 707
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَشَارَ النَّاسَ لِمَا يُهِمُّهُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَذَكَرُوا الْبُوقَ، فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ الْيَهُودِ، ثُمَّ ذَكَرُوا النَّاقُوسَ، فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ النَّصَارَى، فَأُرِيَ النِّدَاءَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَطَرَقَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا،" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا بِهِ فَأَذَّنَ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَزَادَ بِلَالٌ فِي نِدَاءِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي رَأَى وَلَكِنَّهُ سَبَقَنِي.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے اس مسئلہ میں مشورہ کیا کہ نماز کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنے کی کیا صورت ہونی چاہیئے، کچھ صحابہ نے بگل کا ذکر کیا (کہ اسے نماز کے وقت بجا دیا جائے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہود سے مشابہت کے بنیاد پر ناپسند فرمایا، پھر کچھ نے ناقوس کا ذکر کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی نصاریٰ سے تشبیہ کی بناء پر ناپسند فرمایا، اسی رات ایک انصاری صحابی عبداللہ بن زید اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کو خواب میں اذان دکھائی گئی، انصاری صحابی رات ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم دیا تو انہوں نے اذان دی۔ زہری کہتے ہیں: بلال رضی اللہ عنہ نے صبح کی اذان میں  «الصلاة خير من النوم» نماز نیند سے بہتر ہے کا اضافہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برقرار رکھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھی وہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے، لیکن وہ (آپ کے پاس پہنچنے میں) مجھ سے سبقت لے گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 707]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے مشورہ کیا کیوں کہ نماز (باجماعت) کے لیے (آنے میں) انہیں مشکل پیش آتی تھی۔ (کیوں کہ بیک وقت جمع نہیں ہو پاتے تھے۔) حاضرین نے نرسنگے کا ذکر کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں (سے موافقت) کی وجہ سے اسے ناپسند فرمایا۔ پھر انہوں نے ناقوس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٰ کی وجہ سے اسے ناپسند فرمایا۔ اسی رات ایک انصاری صحابی حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (خواب میں) اذان دکھائی گئی۔ انصاری صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات کو آئے (اور اپنا خواب سنایا) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے اذان کہی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے صبح کی اذان میں ان الفاظ کا اضافہ فرمایا: «اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ» نماز نیند سے بہتر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قائم رکھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی اس جیسا خواب آیا تھا لیکن وہ مجھ سے سبقت لے گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6866، ومصباح الزجاجة: 261)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/148) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (یہ روایت سنداً ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک روای محمد بن خالد ضعیف ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ حدیث صحیح ہے، کیونکہ بخاری و مسلم میں آئی ہوئی حدیث کے ہم معنی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف وبعضه صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن خالد بن عبد اللّٰه الواسطي ضعيف (تقريب: 5846)
ولبعض الحديث شواھد عند البخاري (603،604) ومسلم (377،378) وغيرھما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 403

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1155
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَامَ عَنْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَضَاهُمَا بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سو گئے، اور فجر کی سنتیں نہ پڑھ سکے، تو ان کی قضاء سورج نکلنے کے بعد کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 1155]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند کی وجہ سے فجر کی سنتیں نہ پڑھ سکے تو آپ نے سورج طلوع ہونے کے بعد ان کی قضا دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 1155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13461، ومصباح الزجاجة: 411) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی دو رکعت سنت کی قضا سورج نکلنے کے بعد بھی جائز ہے، یہی ثوری، احمد، اسحاق، اور ابن مبارک کا مذہب ہے، امام محمد کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک زوال تک ان کی قضا پڑھ لینا بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں