🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب : ما جاء في التشهد
باب: تشہد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 900
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَطَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَانَ يَقُولُ:" التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے، آپ کہتے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» بابرکت دعائیں اور پاکیزہ نمازیں سب اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 900]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلّٰهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» برکتوں والے آداب، پاکیزہ عبادات، اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکات (نازل) ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 16 (403)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (974)، سنن الترمذی/الصلاة 101 (290)، سنن النسائی/التطبیق 103 (1175)، السہو 42 (1279)، (تحفة الأشراف: 5750، 5607)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/292) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 899
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ، وَعَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ يَعْنُونَ: الْمَلَائِكَةَ، فَسَمِعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا تَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا جَلَسْتُمْ فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے: «السلام على الله قبل عباده السلام على جبرائيل وميكائيل وعلى فلان وفلان»  سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، اور سلام ہو جبرائیل و میکائیل اور فلاں فلاں پر، اور وہ مراد لیتے تھے (فلاں اور فلاں سے) فرشتوں کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کہتے سنا تو فرمایا: تم  «السلام على الله» نہ کہو، کیونکہ اللہ ہی سلام ہے، لہٰذا جب تم تشہد کے لیے بیٹھو تو کہو  «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين»  عمدہ آداب و تسلیمات اللہ کے لیے ہیں اور نماز اور اچھی باتیں سب اسی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر سلام ہو، اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی جب بندہ یہ کہتا ہے تو یہ دعا ہر اس نیک بندے کو پہنچ جاتی ہے جو آسمان و زمین میں ہے، «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله»  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 899]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے تو کہتے: بندوں کی طرف سے اللہ کو سلام، جبرائیل کو سلام، میکائیل کو سلام، فلاں فلاں فرشتوں کو سلام۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (یہ کہتے) سن لیا تو فرمایا: یوں نہ کہو: «السَّلَامُ عَلَى اللّٰهِ» اللہ کو سلام۔ اللہ تعالیٰ تو خود السلام (سلامتی بخشنے والا) ہے، جب تم (تشہد میں) بیٹھو تو کہو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ» تمام آداب و تسلیمات اللہ ہی کے لیے ہیں اور تمام نمازیں اور پاکیزہ اعمال بھی اسی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ جب بندہ یہ کہتا ہے تو دعا آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے (انسان، جن اور فرشتے) کو پہنچ جاتی ہے۔ (پھر کہو:) «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 148 (831)، 150 (835)، العمل في الصلاة 4 (2397)، الاستئذان 3 (6230)، 28 (6260)، الدعوات 17 (6328)، التوحید 5 (7129)، صحیح مسلم/الصلاة 16 (402)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (968)، سنن النسائی/التطبیق 100 (1163)، السہو 41 (1278)، 43 (1280)، 56 (1299)، (تحفة الأشراف: 9242، 9245، 9296، 9314)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 100 (289)، النکاح 16 (1105)، مسند احمد (1/376، 382، 408، 413، 414، 422، 423، 428، 431، 437، 439، 440، 450، 464، 469) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 901
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، فَقَالَ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ فَكَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ، فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، سَبْعُ كَلِمَاتٍ هُنَّ تَحِيَّةُ الصَّلَاةِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اس میں آپ نے ہمارے لیے طریقے بیان فرمائے، اور ہمیں ہماری نماز سکھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز ادا کرو اور تشہد میں بیٹھو تو بیٹھتے ہی سب سے پہلے یہ پڑھو: «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» آداب بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور نماز اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر، اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، یہ سات کلمے نماز کا سلام ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 901]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمارے لیے ہماری سنتیں بیان فرمائیں اور ہمیں نماز کی تعلیم دی، (اسی دوران میں) فرمایا: جب تم نماز پڑھو اور قعدہ تک پہنچ جاؤ تو تم میں سے (ہر) کسی کو سب سے پہلے یوں کہنا چاہیے: «التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» پاکیزہ آداب اور عبادات اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں (نازل) ہوں، ہم پر بھی سلامتی ہو، اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہ سات جملے نماز کا تحیہ (التحیات) ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8987 ومصباح الزجاجة: 328)، وقدأخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 16 (404)، دون قولہ: ''سبع کلمات''، سنن ابی داود/الصلاة 182 (72 9، 973)، دون طرفہ الآخر، سنن النسائی/الإمامة 38 (831)، التطبیق 23 (1065)، مسند احمد (4/409)، سنن الدارمی/الصلاة 84 (1379) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله سبع
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
-

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 902
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ:" بِاسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ، التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد ایسے سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے تھے: «التحيات لله والصلوات والطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل الله الجنة وأعوذ بالله من النار» اللہ کے نام اور اس کی مدد سے، آداب بندگیاں اللہ کے لیے ہیں، اور نماز اور پاکیزہ خیرات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت، اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر، اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے، اور رسول ہیں، میں اللہ سے جنت کا طلبگار ہوں، اور جہنم سے پناہ چاہتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 902]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ (اور وہ اس طرح ہے: «بِاسْمِ اللّٰهِ وَبِاللّٰهِ، التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ لِلّٰهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَىٰ عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَسْأَلُ اللّٰهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ النَّارِ» اللہ کے نام سے، اللہ کی توفیق سے، زبانی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/التطبیق 104 (1176)، السہو 45 (1282)، (تحفة الأشراف: 2665، ومصباح الزجاجة: 329) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ابوالزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 372)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (1176)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں