سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
85. باب : مسح الأذنين مع الرأس وما يستدل به على أنهما من الرأس
باب: سر کے ساتھ کان کے مسح کا بیان اور کان کے سر کا حصہ ہونے کی دلیل۔
حدیث نمبر: 103
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فَتَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ، فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجْتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ يَدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ". قَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ.
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ مومن وضو کرتے ہوئے کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس کی دونوں آنکھ کے پپوٹوں سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھ کے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھ کے ناخنوں کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کے دونوں کانوں سے نکل جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں پاؤں کے ناخن کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر اس کا مسجد تک جانا اور اس کا نماز پڑھنا اس کے لیے نفل ہوتا ہے“۔ قتیبہ کی روایت میں «عن الصنابحي أن رسول اللہ رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال» کے بجائے «عن الصنابحي أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال» ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 103]
حضرت عبد اللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مومن بندہ وضو کرتے ہوئے کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کی غلطیاں اس کے منہ سے نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ ناک جھاڑتا ہے تو ناک کی غلطیاں ناک سے نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ منہ دھوتا ہے تو چہرے کی غلطیاں چہرے سے حتیٰ کہ آنکھوں کی پلکوں سے نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں کی غلطیاں اس کے ہاتھوں سے حتیٰ کہ ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کی غلطیاں سر سے حتیٰ کہ اس کے کانوں سے نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کی غلطیاں پاؤں سے حتیٰ کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں، پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا اور اس کی نماز (ان دو کاموں کا ثواب) اس کے لیے زائد ہوتے ہیں۔“ قتیبہ نے یوں بیان کیا: «عَنِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ» یعنی ”صنابحی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 6 (282)، موطا امام مالک/فیہ 6 (30)، (تحفة الأشراف: 9677)، مسند احمد 4/348، 349 (صحیح)»
وضاحت: ”گناہ نکل جاتے ہیں“ اس سے مراد صغائر (گناہ صغیرہ) ہیں نہ کہ کبائر (گناہ کبیرہ) اس لیے کہ کبائر بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ مصنف نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ دونوں کان سر ہی کا حصہ ہیں کیونکہ سر پر مسح کرنے سے دونوں کانوں سے خطاؤں کا نکلنا اسی صورت میں صحیح ہو گا جب وہ سر ہی کا حصہ ہوں، اس باب میں مصنف کو «الأذنان من الرأس» والی مشہور روایت ذکر کرنی چاہیئے تھی لیکن مصنف نے اس سے صرف نظر کیا کیونکہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ حماد کو اس روایت کے سلسلہ میں شک ہے کہ یہ مرفوع ہے یا موقوف، نیز اس کی سند بھی قوی نہیں ہے، گرچہ متعدد طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے حسن درجہ کو پہنچ گئی ہے، مصنف کا اس روایت سے اعراض کر کے مذکورہ بالا روایت سے استدلال کرنا ان کی دقت نظری کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 84
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ، قال: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ. ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي. ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا بِشَيْءٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حمران بن ابان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ نے وضو کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی انڈیلا، انہیں دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، پھر کہنی تک اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر اسی طرح بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پیر تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پیر دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، اور فرمایا: ”جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے، اور دل میں کوئی اور خیال نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 84]
حمران بن ابان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ نے وضو کیا اور اپنے ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالا اور انہیں دھویا، پھر آپ نے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنا چہرہ تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا دایاں بازو کہنی تک تین دفعہ دھویا، پھر بایاں بازو بھی اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں تین دفعہ دھویا اور پھر بایاں پاؤں بھی اسی طرح دھویا، پھر کہنے لگے: ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے وضو کی طرح وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر دو رکعتیں اس طرح ادا کرے کہ اپنے دل میں کوئی بات نہ کرے، اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔““ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 84]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 24 (159)، 28 (164)، الصوم 47 (1934)، صحیح مسلم/الطہارة3/226، سنن ابی داود/الطہارة 50 (106)، (تحفة الأشراف: 9794)، مسند احمد 1/59، 60، سنن الدارمی/الطہارة 27 (720)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 85، 116 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایسا خیال جو دنیاوی امور سے متعلق ہو اور نماز سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو، اور اگر خود سے کوئی خیال آ جائے اور اسے وہ ذہن سے جھٹک دے تو یہ معاف ہو گا، ایسے شخص کو ان شاءاللہ یہ فضیلت حاصل ہو گی کیونکہ یہ اس کا فعل نہیں۔ ”گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے“: اس سے مراد وہ صغائر ہیں جن کا تعلق حقوق العباد سے نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 85
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، عَنْ شُعَيْبٍ هُوَ ابْنُ أبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ فَغَسَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوَضُوءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ مِنْ رِجْلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ بِشَيْءٍ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حمران سے روایت ہے کہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، اور اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھ پر انڈیلا، پھر انہیں تین بار دھویا، پھر اپنا داہنا ہاتھ پانی میں ڈالا ۱؎ اور کلی کی، اور ناک صاف کی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیروں میں سے ہر پیر کو تین تین بار دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، اور فرمایا: ”جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، دل میں کوئی اور خیال نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 85]
حمران سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ نے پانی منگوایا اور برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں تین دفعہ دھویا۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں داخل کیا اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ پھر اپنا چہرہ تین دفعہ دھویا اور اپنے دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر دونوں پاؤں تین تین دفعہ دھوئے۔ پھر انہوں نے کہا: ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے میرے اس وضو جیسا وضو کیا اور فرمایا: ”جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے، پھر کھڑا ہو کر دو رکعت نماز پڑھے اور اس کی ادائیگی میں اپنے دل میں کوئی بات نہ کرے، اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔““ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 85]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9794) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے لیے داہنے ہاتھ سے پانی لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 116
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا. ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حمران مولی عثمان سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی مانگا، اور وضو کیا، تو انہوں نے اپنے دونوں ہتھیلی تین بار دھو لی، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں ٹخنے تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اسی وضو کی طرح وضو کیا، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، اور اپنے دل میں دوسرے خیالات نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 116]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت حمران رحمہ اللہ سے منقول ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا، اپنی ہتھیلیاں تین دفعہ دھوئیں۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر چہرہ تین دفعہ دھویا، پھر دایاں بازو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر بایاں بازو بھی اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر بایاں پاؤں اسی طرح دھویا، پھر کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا“، پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں اس طرح ادا کرے کہ ان کی ادائیگی کے دوران میں اپنے دل سے کوئی بات نہ کرے تو اس کے پہلے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 84، 85)، (تحفة الأشراف: 9794) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہاتھ کہنی تک اور پیر ٹخنے تک دھویا جائے، اور سر کے مسح کے علاوہ سارے اعضاء تین تین بار دھوئے جائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 146
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنَ امْرِئٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلَاةَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا".
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے، تو اس کے اس نماز سے لے کر دوسری نماز پڑھنے تک کے دوران ہونے والے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 146]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو آدمی وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر نماز پڑھے، اس کے لیے اگلی نماز تک کے گناہ معاف فرما دیے جاتے ہیں یہاں تک کہ اس نماز کو پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 24 (160)، صحیح مسلم/الطہارة 4 (227)، (تحفة الأشراف: 9793)، موطا امام مالک/فیہ 6 (29)، مسند احمد 1 (57) وانظر أیضا رقم: 84، 85 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 147
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ، قَالُوا: سَمِعْنَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ الْوُضُوءُ؟ قَالَ:" أَمَّا الْوُضُوءُ، فَإِنَّكَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَغَسَلْتَ كَفَّيْكَ فَأَنْقَيْتَهُمَا خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ بَيْنِ أَظْفَارِكَ وَأَنَامِلِكَ، فَإِذَا مَضْمَضْتَ وَاسْتَنْشَقْتَ مَنْخِرَيْكَ وَغَسَلْتَ وَجْهَكَ وَيَدَيْكَ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَمَسَحْتَ رَأْسَكَ وَغَسَلْتَ رِجْلَيْكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، اغْتَسَلْتَ مِنْ عَامَّةِ خَطَايَاكَ، فَإِنْ أَنْتَ وَضَعْتَ وَجْهَكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَرَجْتَ مِنْ خَطَايَاكَ كَيَوْمَ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ". قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: فَقُلْتُ: يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، انْظُرْ مَا تَقُولُ، أَكُلُّ هَذَا يُعْطَى فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَدَنَا أَجَلِي وَمَا بِي مِنْ فَقْرٍ فَأَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وضو کا ثواب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا ثواب یہ ہے کہ: جب تم وضو کرتے ہو، اور اپنی دونوں ہتھیلی دھو کر انہیں صاف کرتے ہو تو تمہارے ناخن اور انگلیوں کے پوروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب تم کلی کرتے ہو، اور اپنے نتھنوں میں پانی ڈالتے ہو، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوتے ہو، اور سر کا مسح کرتے ہو، اور ٹخنے تک پاؤں دھوتے ہو تو تمہارے اکثر گناہ دھل جاتے ہیں، پھر اگر تم اپنا چہرہ اللہ عزوجل کے لیے (زمین) پر رکھتے ہو تو اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتے ہو جیسے اس دن تھے جس دن تمہاری ماں نے تمہیں جنا تھا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 147]
حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وضو کیسے کیا جائے؟ (یا وضو کا مقام کیا ہے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا مرتبہ یہ ہے کہ جب تو وضو میں اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے اور انہیں اچھی طرح صاف کرتا ہے تو تیری غلطیاں تیرے ناخنوں اور پوروں کے درمیان سے نکل جاتی ہیں، پھر جب تو کلی کرتا ہے اور اپنے نتھنوں کو صاف کرتا ہے، اپنا چہرہ اور کہنیوں سمیت بازو دھوتا ہے، اپنے سر کا مسح کرتا ہے اور ٹخنوں سمیت پاؤں دھوتا ہے تو تو اپنی اکثر غلطیوں سے دھل جاتا ہے، پھر اگر تو اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا چہرہ رکھے (نماز پڑھے) تو اپنی غلطیوں سے اس طرح نکل آتا ہے جیسے آج ہی تجھے تیری ماں نے جنا ہو۔“ ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ! غور فرمائیے! آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ کیا یہ سب کچھ ایک ہی مجلس میں مل جاتا ہے؟“ وہ فرمانے لگے: ”اللہ کی قسم! تحقیق میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری موت قریب آ گئی ہے، میں فقیر نہیں کہ (مال حاصل کرنے کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولوں، اللہ کی قسم! یقیناً میرے کانوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 10760)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/مسافرین 52 (832)، مسند احمد 4/112، کلاھما مطولاً لغیر ہذا السیاق (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 151
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبِي عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اچھی طرح وضو کرے، پھر دل اور چہرہ سے متوجہ ہو کر دو رکعت نماز ادا کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 151]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح بہترین وضو کرے، پھر دو رکعت اس طرح پڑھے کہ دل اور چہرے کی (ظاہراً و باطناً) توجہ انہی (دو رکعت) کی طرف ہو، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 6 (234) مطولاً، سنن ابی داود/فیہ 65 (169) مطولاً، 162 (906)، (تحفة الأشراف: 9914)، مسند احمد 4/146، 151، 153 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی حالت نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھے، پورے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرے، اور نہ ہی دل میں کوئی دوسرا خیال لائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 857
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ الْحُكَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے نماز کے لیے وضو کیا، اور کامل وضو کیا، پھر فرض نماز کے لیے چلا، اور آ کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی یا جماعت کے ساتھ، یا مسجد میں (تنہا) نماز پڑھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں ۱؎ کو بخش دے گا“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 857]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے نماز کے لیے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر فرض نماز (کی ادائیگی کے لیے مسجد) کی طرف چلا اور لوگوں کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی یا (اکیلے نے) مسجد میں پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 8 (6433)، صحیح مسلم/الطھارة 4 (232)، (تحفة الأشراف: 9797)، مسند احمد 1/64، 67، 71، (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مراد صغیرہ گناہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم