سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب : كيف يفعل إذا افتتح الصلاة قائما وذكر اختلاف الناقلين عن عائشة في ذلك
باب: جب نماز کھڑے ہو کر شروع کرے تو کیسے کرے؟ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1649
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , وَأَبُو النَّضْرِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرَ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور بیٹھے ہوتے، اور قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے، پھر جب آپ کی قرآت میں تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر باقی رہ جاتی تو کھڑے ہو جاتے، اور کھڑے ہو کر قرآت کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں (بھی) ایسے ہی کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1649]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز شروع فرماتے تو بیٹھے بیٹھے ہی قراءت فرماتے۔ جب آپ کی قراءت سے تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو آپ کھڑے ہوجاتے اور وہ آیات کھڑے ہوکر تلاوت فرماتے، پھر رکوع فرماتے، پھر سجدہ فرماتے، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 20 (1119)، التھجد 16 (1148)، صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن ابی داود/الصلاة 179 (954)، سنن الترمذی/الصلاة 159 (374)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 140 (1227)، (تحفة الأشراف: 17709)، موطا امام مالک/الجماعة 7 (23)، مسند احمد 6/178 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1659
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نفل پڑھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ اپنی وفات سے ایک سال قبل آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے، آپ سورت پڑھتے تو اتنا ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ طویل سے طویل تر ہو جاتی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1659]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا حتیٰ کہ آپ کی وفات سے ایک سال قبل ایسا ہوا کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے، مگر آپ سورت کو اتنا ٹھہر ٹھہر کر سکون سے پڑھتے تھے کہ وہ اپنے سے لمبی سورت سے بھی لمبی بن جاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (733)، سنن الترمذی/الصلاة 159 (373)، (تحفة الأشراف: 15812)، موطا امام مالک/الجماعة 7 (21)، مسند احمد 6/285، سنن الدارمی/الصلاة 109 (1425، 1426) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم