🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب : كيف يفعل إذا افتتح الصلاة قائما وذكر اختلاف الناقلين عن عائشة في ذلك
باب: جب نماز کھڑے ہو کر شروع کرے تو کیسے کرے؟ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والوں کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1651
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً".
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے، تو جب آپ رکوع کرنا چاہتے تو آدمی کے چالیس آیتیں پڑھنے کے بقدر (باقی رہنے پر) کھڑے ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1651]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی) قراءت بیٹھ کر کرتے، جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اتنی دیر پہلے کھڑے ہو جاتے جتنی دیر میں انسان چالیس آیات پڑھ سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 140 (1226)، (تحفة الأشراف: 17950)، مسند احمد 6/217 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1659
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نفل پڑھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ اپنی وفات سے ایک سال قبل آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے، آپ سورت پڑھتے تو اتنا ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ طویل سے طویل تر ہو جاتی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1659]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا حتیٰ کہ آپ کی وفات سے ایک سال قبل ایسا ہوا کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے، مگر آپ سورت کو اتنا ٹھہر ٹھہر کر سکون سے پڑھتے تھے کہ وہ اپنے سے لمبی سورت سے بھی لمبی بن جاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (733)، سنن الترمذی/الصلاة 159 (373)، (تحفة الأشراف: 15812)، موطا امام مالک/الجماعة 7 (21)، مسند احمد 6/285، سنن الدارمی/الصلاة 109 (1425، 1426) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں