سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب : ذكر الاختلاف على محمد بن أبي يعقوب في حديث أبي أمامة في فضل الصائم
باب: روزہ دار کی فضیلت کے سلسلے میں ابوامامہ رضی الله عنہ والی حدیث میں محمد بن ابی یعقوب پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2244
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَمَعَنَا عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ وَجَمَاعَةٌ، فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثٍ مَا رَأَيْتُهُ حَدَّثَ بِهِ الْقَوْمَ، إِلَّا مِنْ أَجْلِي لِأَنِّي كُنْتُ أَحْدَثَهُمْ سِنًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ" , قَالَ عَلِيٌّ: وَسُئِلَ الْأَعْمَشِ عَنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ , قَالَ: نَعَمْ.
عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ علقمہ، اسود اور ایک جماعت تھی، تو انہوں نے ہم سے ایک حدیث بیان کی، اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے وہ حدیث میرے ہی لیے بیان کی تھی کیونکہ میں ان لوگوں میں سب سے زیادہ نوعمر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے“۔ علی بن ہاشم (راوی) کہتے ہیں کہ اعمش سے ابراہیم والی روایت کے بارے میں پوچھا گیا، سائل نے پوچھا: «عن إبراهيم عن علقمة عن عبداللہ» اسی کے مثل مروی ہے، اعمش نے کہا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2244]
حضرت عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ہمارے ساتھ علقمہ، اسود اور کچھ دوسرے لوگ بھی تھے، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی، میرا خیال ہے کہ آپ نے ان (ہمارے ساتھ والے) لوگوں کو یہ حدیث میری ہی وجہ سے بیان فرمائی کیونکہ میں ہی ان سب سے کم عمر نوجوان تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوان لوگو! تم میں سے جو شخص نکاح کرنے کی طاقت رکھے وہ ضرور نکاح کرے کیونکہ نکاح نظر کو زیادہ نیچا اور شرم گاہ کو زیادہ محفوظ کرتا ہے۔“ راوی علی بن ہاشم کہتے ہیں کہ اعمش سے ”ابراہیم عن علقمہ عن عبداللہ“ کی روایت کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا یہ اس (عمارہ عن عبدالرحمن) جیسی ہی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2241 (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’علا باہلی“ ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2241
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَابٌ لَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ، قَالَ:" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! عَلَيْكُمْ بِالْبَاءَةِ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہم سب نوجوان تھے۔ ہم (جوانی کے جوش میں) کسی چیز پر قابو نہیں رکھ پاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم اپنے اوپر شادی کرنے کو لازم پکڑو کیونکہ یہ نظر کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے، اور جو نہ کر سکتا ہو (یعنی نان، نفقے کا بوجھ نہ اٹھا سکتا ہو) وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے کیونکہ یہ اس کے لیے بمنزلہ خصی بنا دینے کے ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2241]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مکہ مکرمہ سے) نکلے تو ہم نوجوان تھے اور ہم شادی وغیرہ کی وسعت نہیں رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوان لوگو! نکاح کرو کیونکہ نکاح نظر کو نیچا اور شرم گاہ کو محفوظ کرنے والی چیز ہے۔ جو شخص (فقر کی وجہ سے) نکاح کی طاقت نہ رکھے، وہ روزے رکھا کرے کیونکہ روزہ اس کی شہوت کو کچل دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 10 (1905)، 3 (5066)، صحیح مسلم/الصوم 1 (1400)، سنن الترمذی/الصوم 1 (1081)، تحفة الأشراف: 9385)، مسند احمد 1/592، حم1/378، 424، 425، 432، سنن الدارمی/النکاح2 (8211)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2244، 3211، 3212 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2242
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَقِيَ عُثْمَانَ بِعَرَفَاتٍ فَخَلَا بِهِ فَحَدَّثَهُ , وَأَنَّ عُثْمَانَ , قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا؟ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".
علقمہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)، عثمان (رضی اللہ عنہ) سے عرفات میں ملے، تو وہ انہیں لے کر تنہائی میں چلے گئے اور ان سے باتیں کیں، عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو کسی دوشیزہ کی خواہش ہے کہ میں آپ کی اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بھی بلا لیا (آ جاؤ کوئی خاص بات نہیں ہے اور جب وہ آ گئے) تو انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے اسے چاہیئے کہ وہ شادی کر لے کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور جو طاقت نہ رکھے، تو اسے چاہیئے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے «وجاء» ہے“ (یعنی وہ اسے خصی بنا دے گا، اس کی شہوت کو توڑ دے گا)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2242]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عرفات میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ملے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انہیں علیحدہ لے گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو خواہش ہے کہ میں کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی کر دوں؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت علقمہ رحمہ اللہ کو بھی بلا لیا اور ان سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص نکاح (کے اخراجات) کی طاقت رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح نظر کو نیچا اور شرم گاہ کو محفوظ رکھنے کی چیز ہے۔ اور جو طاقت نہ رکھے، وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 10 (1905) مختصراً، النکاح2 (5065)، صحیح مسلم/الصوم1 (1400)، سنن ابی داود/النکاح1 (2046)، سنن الترمذی/الصوم1 (1081) تعلیقًا، سنن ابن ماجہ/الصوم1 (1845) مطولًا، تحفة الأشراف: 9417، مسند احمد 1/ 378، 447، سنن الدارمی/النکاح2 (2212)، ویأتي عند المؤلف 3209، 3210، 3213 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2243
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے، تو وہ شادی کر لے اور جو نہ رکھے، وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے، کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2243]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص نکاح (کے اخراجات) کی طاقت رکھے وہ شادی کرے اور جو اتنی وسعت نہ پائے، وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کی شہوت کو کچل دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2243]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2245
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ عِنْدَ عُثْمَانَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِتْيَةٍ , فَقَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا فَالصَّوْمُ لَهُ وِجَاءٌ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو مَعْشَرٍ: هَذَا اسْمُهُ زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَهُوَ صَاحِبُ إِبْرَاهِيمَ رَوَى عَنْهُ مَنْصُورٌ، وَمُغِيرَةُ، وَشُعْبَةُ، وَأَبُو مَعْشَرٍ الْمَدَنِيُّ: اسْمُهُ نَجِيحٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَمَعَ ضَعْفِهِ أَيْضًا كَانَ قَدِ اخْتَلَطَ عِنْدَهُ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ، مِنْهَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ" , وَمِنْهَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ وَلَكِنِ انْهَسُوا نَهْسًا".
علقمہ کہتے ہیں: میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو ثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص وسعت والا ہو وہ شادی کر لے۔ کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے، اور جو شخص ایسا نہ ہو تو روزہ اس کی شہوت کو کچل دینے کا ذریعہ ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سند میں مذکور ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے، وہ ثقہ ہیں اور وہ ابراہیم (نخعی) کے تلامذہ میں سے ہیں، اور ان سے منصور، مغیرہ اور شعبہ نے روایت کی ہے۔ اور (ایک دوسرے) ابومعشر جو مدنی ہیں ان کا نام نجیح (نجیح بن عبدالرحمٰن سندی) ہے، وہ ضعیف ہیں، اور ضعف کے ساتھ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے ان کے یہاں کچھ منکر احادیث بھی ہیں جن میں سے ایک وہ ہے جو انہوں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے وہ قبلہ ہے“ ۱؎۔ نیز اسی میں سے ایک حدیث وہ ہے جو انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت چھری سے نہ کاٹو بلکہ نوچ نوچ کر کھاؤ“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2245]
حضرت علقمہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جبکہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نوجوانوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم میں سے جو مالدار ہو، وہ شادی کرے کیونکہ یہ چیز اس کی نظر کو زیادہ نیچا اور شرم گاہ کو زیادہ محفوظ کر دے گی اور جو مالدار نہ ہو تو اس کی شہوت کا علاج روزہ ہے۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جو ابو معشر راوی ہے، اس کا نام زیاد بن کلیب ہے، وہ ثقہ ہے اور ابراہیم نخعی کا مصاحب (ساتھی) ہے۔ اس سے منصور، مغیرہ اور شعبہ نے روایت کیا ہے۔ ایک ابو معشر مدینی ہے، اس کا نام نجیح ہے اور وہ ضعیف ہے۔ ضعیف ہونے کے ساتھ وہ اختلاط کا بھی شکار ہو گیا تھا۔ وہ منکر حدیثوں میں سے ایک وہ ہے جو اس نے محمد بن عمرو سے بیان کی، انہوں نے ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔“ اور ایک وہ ہے جو اس نے ہشام بن عروہ سے روایت کی، انہوں نے اپنے باپ (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت کو چھری سے مت کاٹو، (بلکہ) اسے دانتوں سے نوچ کر کھاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (لم يذكر المزي طرف الحديث في ترجمة أبي معشر زياد بن كليب عن إبراهيم عن علقمة عن ابن مسعود /تحفة الأشراف 6/ 363) حم1/58 ویأتی عند المؤلف 3208 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: أخرجه الترمذي (342) وابن ماجه (1011) (تحفة الأشراف 15124) (حافظ ابن حجر النکت الظراف میں لکھتے ہیں کہ خلیلی نے ارشاد میں ایک دوسرے طریقے سے اسے بسند ابو معشر عن ہشام عن ابیہ عن عائشہ روایت کیا ہے، اس حدیث میں ابو معشر نجیح بن عبدالرحمٰن سندی ہیں، جو ضعیف راوی ہیں، اسی لیے حافظ ابن حجر نے ان کے بارے میں کہا: ضعیف أسن واختلط یعنی ضعیف ہیں، عمر دراز ہوئے اور اختلاط کا شکار ہوئے، اسی وجہ سے امام نسائی نے باب میں موجود ابو معشر زیاد بن کلیب کی توثیق کے بعد اسی کنیت کے دوسرے راوی یعنی نجیح بن عبدالرحمٰن سندی کا تذکرہ ان کی منکر احادیث کے ساتھ دیا تاکہ دونوں میں تمیز ہو جائے، اور یہ امام نسائی کی کتاب کی خوبی ہے کہ وہ اس طرح کے افادات رقم فرماتے ہیں، لیکن مذکور حدیث دوسرے طرق کی وجہ سے صحیح ہے، تفصیل کے ملاحظہ ہو: الإرواء: ۲۹۲) ۲؎: حدیث «لأستغفرن لك ما لم أنه عنك» اس کی تخریج ابوداؤد اور بیہقی نے سنن کبریٰ میں کی ہے، اور شیخ البانی نے اسے ضعیف الجامع (۶۲۵۶) میں داخل کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3208
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ عِنْدَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِتْيَةٍ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: فَلَمْ أَفْهَمْ فِتْيَةً كَمَا أَرَدْتُ فَقَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ، فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا، فَالصَّوْمُ لَهُ وِجَاءٌ".
علقمہ کہتے ہیں کہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوجوانوں (کی ایک ٹولی) کے پاس پہنچے اور (ان سے) کہا: ”جو تم میں مالدار ہو ۱؎ تو اسے چاہیئے کہ وہ شادی کر لے کیونکہ اس سے نگاہ نیچی رکھنے میں زیادہ مدد ملتی ہے ۲؎، اور نکاح کر لینے سے شرمگاہ کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے ۳؎، اور جو مالدار نہ ہو بیوی کے کھانے پینے کا خرچہ نہ اٹھا سکتا ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ اس کے لیے روزہ شہوت کا توڑ ہے ۴؎، (اس حدیث میں «فتیۃ» کا لفظ آیا ہے، اس کے متعلق) ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس کا مفہوم جیسا میں سمجھنا چاہتا تھا سمجھ نہ سکا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 3208]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ جوانوں کے پاس تشریف لائے … امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا: جس طرح میں چاہتا ہوں اس طرح میں (اپنے استاد سے) لفظ «فِتْيَةً» ”جوانوں“ نہیں سمجھ سکا… اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص وسعت رکھتا ہو، وہ ضرور نکاح کرے کیونکہ نکاح نظر کو نیچا اور شرم گاہ کو محفوظ کر دیتا ہے۔ اور جس شخص کے پاس نکاح کی وسعت نہ ہو (وہ روزے رکھا کرے کیونکہ) روزہ رکھنا اس کی شہوت کو کچل دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 3208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2245 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مہر اور نان و نفقہ دینے کی طاقت رکھتا ہو۔ ۲؎: یعنی پرائی عورت کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے کی حاجت نہیں رہتی۔ ۳؎: زنا و بدکاری میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ ۴؎: اس سے شہوانیت دبتی اور کمزور ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3209
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا؟ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَلْيَصُمْ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ".
علقمہ سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر تمہیں کسی نوجوان عورت سے شادی کی خواہش ہو تو میں تمہاری اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بلایا (اور ان کی موجودگی میں) حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بیوی کو نان و نفقہ دے سکتا ہو اسے شادی کر لینی چاہیئے۔ کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ کرنے کا ذریعہ ہے اور جو شخص نان و نفقہ دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے کیونکہ وہ اس کا توڑ ہے“ (اس سے نفس کمزور ہوتا ہے) ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 3209]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا آپ پسند فرمائیں گے کہ میں ایک نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی کر دوں؟ تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو (یعنی مجھے) بلا لیا، پھر بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نوجوانوں سے) فرمایا تھا: ”تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھے، وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح نظر کو زیادہ جھکا دینے والا اور شرم گاہ کو زیادہ محفوظ کر دینے والا ہے۔ اور جو شخص نکاح کی طاقت نہ رکھے، وہ روزے رکھا کرے کیونکہ روزہ اس کی شہوت کو کچل دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 3209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2241 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا ابن مسعود رضی الله عنہ نے آپ کی اس پیشکش کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی شادی پر ابھارا ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے مگر وہ نوجوانوں کے لیے ہے، اور مجھے اب شادی کی خواہش نہ رہی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3210
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ , وَالْأَسْوَدُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الْأَسْوَدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم (نوجوانوں) سے فرمایا: ”جو شخص بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہوا سے شادی کر لینی چاہیئے اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے، کیونکہ وہ اس کے لیے توڑ ہے، یعنی روزہ آدمی کی شہوت کو دبا اور کچل دیتا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں ”اسود“ راوی کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 3210]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے (جب ہم جوان تھے) فرمایا: ”تم میں سے جو شخص نکاح کی استطاعت رکھے، وہ نکاح کرے اور جو استطاعت نہ رکھے، وہ روزے رکھے کیونکہ روزے رکھنا اس کی شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے۔“ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں اسود کا ذکر صحیح نہیں (علقمہ کا ذکر صحیح ہے جیسا کہ سابقہ روایات میں ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 3210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2242 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3211
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مَعْشَرَ الشَّبَاب:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَنْكِحْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا فَلْيَصُمْ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ" ,
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نوجوانوں سے کہا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ کا بار اٹھا سکتا ہو، اسے شادی کر لینی چاہیئے، کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور جو نکاح کی ذمہ داریاں نہ نبھا سکتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ روزہ اس کے لیے شہوت کا توڑ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 3211]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”اے جوان لوگو! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھے، وہ شادی کرے کیونکہ یہ نظر کو زیادہ جھکا دینے والا اور شرم گاہ کو زیادہ محفوظ کر دینے والا ہے، اور جو شخص طاقت نہ رکھے تو وہ روزے رکھا کرے، بلاشبہ روزہ اس کی شہوت کو کچل دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 3211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2241 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3213
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِنًى فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ، فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَا أُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً فَلَعَلَّهَا أَنْ تُذَكِّرَكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مَعْشَرَ الشَّبَاب:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ، فَلْيَتَزَوَّجْ".
علقمہ کہتے ہیں کہ میں منی میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے عثمان رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہو گئی تو وہ ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔ اور کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا میں آپ کی شادی ایک نوجوان لڑکی سے نہ کرا دوں؟ توقع ہے وہ آپ کو آپ کے ماضی کی بہت سی باتیں یاد دلا دے گی، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھ سے یہ بات آج کہہ رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات ہم سے بہت پہلے اس طرح کہہ چکے ہیں: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ ادا کرنے کی طاقت رکھے تو اس کو نکاح کر لینا چاہیئے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 3213]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انہیں ملے اور کھڑے ہو کر ان سے باتیں کرنے لگے۔ کہنے لگے: اے ابوعبدالرحمن! کیا میں کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کروں؟ شاید وہ آپ کو آپ کی گزشتہ جوانی کی یاد دلائے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر آپ نے یہ بات فرمائی ہے تو بجا فرمایا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا: ”اے نوجوان لوگو! جو تم سے نکاح کی طاقت رکھے وہ نکاح کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 3213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2242 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن