سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
102. باب : فيمن أحصر بعدو
باب: جسے دشمن کے سبب حج سے روک دیا جائے۔
حدیث نمبر: 2864
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الصَّوَّافِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى" , وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَا صَدَقَ , وَقَالَ شُعَيْبٌ فِي حَدِيثِهِ:" وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ".
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا جو لنگڑا ہو گیا تو وہ حلال ہو گیا، اور اس پر دوسرا حج ہے“ (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا، تو ان دونوں نے کہا، انہوں (حجاج انصاری) نے سچ کہا ہے۔ اور شعیب اپنی روایت میں «وعليه حجة أخرى» ”ان پر دوسرا حج ہے“ کے بجائے «وعليه الحج من قابل» ”آئندہ سال ان پر حج ہے“ کہا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2863 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2863
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ , عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ عَرِجَ أَوْ كُسِرَ فَقَدْ حَلَّ، وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى" , فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَا: صَدَقَ.
حجاج بن عمرو انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ”جو شخص لنگڑا ہو جائے، یا جس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، تو وہ حلال ہو جائے گا، (اس کا احرام کھل جائے گا) اور اس پر دوسرا حج ہو گا“، (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں (یعنی حجاج انصاری) نے سچ کہا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 44 (1863)، سنن الترمذی/الحج 96 (940)، سنن ابن ماجہ/الحج 85 (3078)، (تحفة الأشراف: 3294)، مسند احمد (3/450)، سنن الدارمی/المناسک 57 (1936) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح