سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : حب الرجل بعض نسائه أكثر من بعض
باب: ایک کے مقابلے دوسری بیوی سے زیادہ محبت ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3405
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ". قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ , وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، تَرَى مَا لَا نَرَى.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں“، انہوں نے کہا: «وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ» (جبرائیل کو عائشہ نے سلام کا جواب دیا اور کہا:) آپ تو وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھتے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16671)، مسند احمد (6/150) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ جبرائیل کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی باتیں سن رہے ہیں حالانکہ ہم نہیں دیکھ رہے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3404
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ هُدَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، , قَالَتْ: أَوْحَى اللَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا مَعَهُ، فَقُمْتُ , فَأَجَفْتُ الْبَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ , فَلَمَّا رُفِّهَ عَنْهُ، قَالَ لِي:" يَا عَائِشَةُ , إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی، میں آپ کے ساتھ تھی، میں اٹھی اور اپنے اور آپ کے درمیان دروازہ بند کر دیا، جب وحی ختم ہو گئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”عائشہ! جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16156) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، صالح بن ربيعة بن هدير: لم يوثقه غير ابن حبان. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 346
حدیث نمبر: 3406
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ , هَذَا جِبْرِيلُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ". مِثْلَهُ سَوَاءٌ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الصَّوَابُ , وَالَّذِي قَبْلَهُ خَطَأٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ اور آگے ویسے ہی ہے جیسے اوپر گزرا“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ روایت ٹھیک ہے، پہلی والی غلط ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 6 (3217)، فضائل الصحابة 30 (3768)، الأدب 111 (6201)، الإستئذان 16 (6249)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2447)، سنن الترمذی/المناقب 63 (3881)، (تحفة الأشراف: 17766)، مسند احمد (6/88، 117) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی «شعیب عن الزہری عن أبی سلمۃ عن عائشۃ» کی سند ٹھیک ہے جب کہ «معمر عن الزہری عن عروۃ عن عائشۃ» کی سند میں غلطی ہے، کیونکہ «عن عروۃ عن عائشۃ» کی جگہ «عن أبی سلمۃ عن عائشۃ» ہونا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه