سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : الغيرة
باب: غیرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3414
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: افْتَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ , فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ , فَتَجَسَّسْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ , أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ:" سُبْحَانَكَ , وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ". فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي , إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ، وَإِنِّي لَفِي آخَرَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا، مجھے گمان ہوا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے پاس گئے ہوں گے، میں آپ کو تلاش کرنے لگی پھر میں لوٹی تو دیکھا کہ آپ رکوع یا سجدے میں ہیں، آپ کہہ رہے ہیں: «سبحانك و بحمدك لا إله إلا أنت» میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کچھ کر رہے ہیں اور میں کچھ اور ہی گمان کر رہی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 169، 1131، 1132 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1132
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ الْمِقْسَمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَحَسَّسْتُهُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ" فَقَالَتْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات (بستر پر) موجود نہیں پایا، تو میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، پھر میں نے آپ کو تلاش کیا تو اچانک کیا دیکھتی ہوں کہ آپ رکوع یا سجدہ کی حالت میں کہہ رہے ہیں: «سبحانك اللہم وبحمدك لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! تو پاک ہے، میں تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتا ہوں، نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر تو ہی“، تو وہ کہنے لگیں: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! میں کس خیال میں تھی اور آپ کس حال میں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 1132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 42 (485)، (تحفة الأشراف: 16256)، مسند احمد 6/151، ویأتی عند المؤلف في عشرة النساء 4 برقم: (3413) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3413
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَتَجَسَّسْتُهُ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ , أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ:" سُبْحَانَكَ , وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ". فَقُلْتُ: بِأَبِي , وَأُمِّي إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ، وَإِنِّي لَفِي شَأْنٍ آخَرَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا، مجھے گمان ہوا کہ آپ کسی بیوی کے پاس گئے ہوں گے۔ میں آپ کو تلاش کرنے لگی، دیکھا کہ آپ رکوع یا سجدہ میں ہیں اور کہہ رہے ہیں: «سبحانك و بحمدك لا إله إلا أنت» ”پاک ہے تیری ذات، تیری ہی تعریف ہے اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں“۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کچھ کر رہے ہیں اور میں کچھ اور ہی گمان کر رہی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1132 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن