🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : تحريم الدم
باب: خون کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3986
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسًا , يَقُولُ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي قُبَّةٍ , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم لوگ خیمہ میں تھے پھر مذکورہ حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3986]
حضرت نعمان بن سالم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت اوس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم اس وقت مسجد کے قبے میں تھے۔ پھر سابقہ حدیث پوری بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3986]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3095
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَذَكَرَ آخَرَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا جَمَعَ أَبُو بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ، كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا"؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا، كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (لوگوں کو) ان (منکرین زکاۃ و مرتدین دین) سے جنگ کے لیے اکٹھا کیا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں: مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں، اور جب انہوں نے یہ کلمہ کہہ لیا تو اپنے خون اور اپنے مال کو مجھ سے بچا لیا۔ مگر اس کے حق کے بدلے (جان و مال پر جو حقوق لگا دیئے گئے ہیں اگر ان کی پاسداری نہ کرے گا تو سزا کا حقدار ہو گا۔ مثلاً قصاص و حدود ضمانت وغیرہ میں) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ (دونوں فریضوں) میں فرق کرے گا۔ اور قسم اللہ کی اگر انہوں نے مجھے بکری کا ایک چھوٹا بچہ بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ تو میں ان کے اس انکار پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی میں نے اچھی طرح جان لیا کہ ان (منحرفین) سے جنگ کے معاملہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پورے طور پر شرح صدر حاصل ہے۔ (تبھی وہ اتنے مستحکم اور فیصلہ کن انداز میں بات کر رہے ہیں) اور مجھے یقین آ گیا کہ وہ حق پر ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3095]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان (مانعینِ زکاۃ) سے لڑائی کرنے کا عزم کر لیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر! آپ ان لوگوں سے کیسے لڑ سکتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ گرامی ہے: مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں کہہ لیں۔ چنانچہ جب وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہہ لیں تو انہوں نے اپنے خون اور مال مجھ سے بچا لیے مگر یہ کہ ان پر کسی کا حق بنتا ہو۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں تفریق کرے گا (یعنی نماز پڑھے گا مگر زکاۃ نہ دے گا)۔ اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے بکری کا ایک بچہ بھی نہ دیں جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں اس بات پر بھی ان سے لڑوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ ان لوگوں سے لڑائی کے لیے کھول دیا ہے اور مجھے یقین ہو گیا ہے کہ یہ بات بالکل صحیح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3095]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2445 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3978
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ , وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ , وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي , مَالَهُ , وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ , وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، فَوَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا. قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور عرب کے جن لوگوں نے کفر (ارتداد) کی گود میں جانا تھا چلے گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ لا الٰہ إلا اللہ نہ کہیں، تو جس نے لا الٰہ الا اللہ کہا اس نے مجھ سے اپنا مال، اپنی جان محفوظ کر لیا، مگر (جان و مال کے) حق کے بدلے میں، اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: میں ہر اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں تفریق کرے گا کیونکہ زکاۃ یقیناً مال کا حق ہے، اللہ کی قسم! اگر ان لوگوں نے بکری کا ایک بچہ بھی مجھے دینے سے روکا جسے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں اس کے روکنے پر ان سے جنگ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے کو جنگ کے لیے کھول دیا ہے، تو میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3978]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے بعد خلیفہ بنے اور بعض عرب کافر بن گئے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے لڑائی کریں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں پڑھ لیں۔ جس شخص نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں پڑھ لیا، اس نے مجھ سے اپنا مال و جان بچا لیا، الا یہ کہ اس پر (اسلام کا) کوئی حق بنتا ہو اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ہر اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرے گا۔ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے بکری کا ایک بچہ بھی دینے سے انکار کریں جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں اس وجہ سے ان سے لڑائی کروں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے سمجھ آ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ لڑائی کے لیے کھول دیا ہے، نیز مجھے یقین ہو گیا کہ یہی بات برحق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3978]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2445 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں