سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب : ذبح الرجل أضحيته بيده
باب: اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانور ذبح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4423
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ:" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، يَطَؤُ عَلَى صِفَاحِهِمَا، وَيَذْبَحُهُمَا، وَيُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کی قربانی کی جو سینگ دار اور چتکبرے تھے۔ آپ ان (کی گردن) کے پہلو پر قدم رکھ کر انہیں ذبح کر رہے تھے اور «بسم اللہ، اللہ اکبر» کہہ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4423]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے سیاہ و سفید دو مینڈھے «بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھتے ہوئے قربان فرمائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلو پر پاؤں مبارک رکھا ہوا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحي 3 (1966)، (تحفة الأشراف: 1191) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: زیادہ بہتر یہی ہے کہ اپنی قربانی خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، لیکن جائز یہ بھی ہے کہ دوسرے سے کروائے، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1589
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال:" خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحًى وَانْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن ہمیں خطبہ دیا، اور (اس کے بعد) آپ دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف جھکے اور انہیں ذبح کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 1589]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرمایا، پھر اپنے دو سفید و سیاہ رنگ کے (ابلق) مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انھیں ذبح فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 1589]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأضاحي 4 (5549)، 9 (5558)، 12 (5561)، 14 (5565)، صحیح مسلم/الأضاحي 1 (1962)، سنن ابی داود/الضحایا 4 (2793)، سنن الترمذی/الأضاحي 2 (1494)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 12 (3151)، (تحفة الأشراف: 1455)، مسند احمد 3/113، 117، ویأتی عند المؤلف فی الأضاحي 4393، 4401 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4390
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ"، قَالَ أَنَسٌ: وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4390]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھے قربان کیا کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھے ہی قربان کرتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1009) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ بطور استحباب ہے (ورنہ ایک جانور ایک گھر کی طرف سے کافی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو کبھی سو سو اونٹ ذبح کر دیا کرتے تھے، تو اس سے وجوب پر کسی نے استدلال نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4391
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4391]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھے قربان کیے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 398) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”چتکبرے“ یعنی سفید اور کالا یا کالا اور لال رنگ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4392
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی جن کے سینگ برابر تھے قربانی کی، انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور «بسم اللہ واللہ اکبر» کہا اور اپنا (دایاں) پاؤں ان کی گردن کے پہلو پر رکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4392]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے، سینگوں والے مینڈھے قربان کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا۔ «بِسْمِ اللّٰهِ» ”بسم اللہ“ پڑھی اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا اور اپنا پاؤں ان کی گردن کے پہلو پر رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأضاحي 14 (5565)، صحیح مسلم/الأضاحی 3 (1966)، سنن الترمذی/الأضاحي 2 (1494)، (تحفة الأشراف: 1427)، مسند احمد (3/99، 115، 170، 178، 189، 211، 214، 222، 255، 258، 267، 272، 279، 281)، سنن الدارمی/الأضاحی1 (1988) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جانور کو قبلہ رخ لٹا کر اس کی گردن کے دائیں پہلو پر ذبح کرنے والا اپنا دایاں پاؤں رکھے گا اس سے جانور پر مکمل قابو حاصل ہو جاتا ہے، اور جانور زیادہ حرکت نہیں کر پاتا جو اسی کے لیے بہتر ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4393
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحَى، وَانْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا"، مُخْتَصَرٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن خطبہ دیا اور دو چتکبرے مینڈھوں کے پاس آئے پھر انہیں ذبح کیا (مختصر)۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4393]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا، پھر دو سیاہ و سفید مینڈھوں کی طرف بڑھے اور ان کو ذبح فرمایا۔ ((یہ روایت) مختصر ہے۔) [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4393]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1589 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4394
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ كَأَنَّهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَإِلَى جُذَيْعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ (گویا کہ ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں) قربانی کے دن (نماز عید کے بعد) دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف مڑے، انہیں ذبح کیا، اور بکری کے ایک ریوڑ کی طرف گئے اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4394]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی والے دن دو سیاہ و سفید مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انھیں ذبح فرمایا، نیز آپ نے کچھ بکریاں صحابہ میں تقسیم فرمائیں (تاکہ وہ بھی قربانی کر سکیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4394]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة (الحدود) 9 (1679)، سنن الترمذی/الأضاحی21(1520)، (تحفة الأشراف: 11683) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4395
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:" ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ، فَحِيلٍ يَمْشِي فِي سَوَادٍ، وَيَأْكُلُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے موٹے دنبہ کی قربانی کی جو چلتا تھا سیاہی میں کھاتا تھا سیاہی میں اور دیکھتا تھا سیاہی میں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4395]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نر، سینگوں والا مینڈھا قربان فرمایا جس کی ٹانگیں سیاہ تھیں، منہ اور پیٹ بھی سیاہ تھا اور آنکھیں بھی سیاہ تھیں۔ (باقی سفید تھا۔) [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأضاحی4(2796)، سنن الترمذی/الضحایا4(1496)، سنن ابن ماجہ/الضحایا4(3128) (تحفة الأشراف: 4297) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کا پاؤں، اس منہ اور اس کی آنکھیں سب سیاہ (کالے) تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، سنده ضعيف، ابو داود (2796) ترمذي (1496) ابن ماجه (3128) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
حدیث نمبر: 4420
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ:" ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، يُكَبِّرُ، وَيُسَمِّي، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ". قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ؟، قَالَ: نَعَمْ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ دار دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ «اللہ اکبر» اور «بسم اللہ» پڑھ رہے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے ہیں اور اپنا پاؤں ان (کی گردن) کے پہلو پر رکھے ہوئے ہیں۔ (شعبہ کہتے ہیں) میں قتادہ نے عرض کیا: کیا آپ نے اسے انس سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4420]
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے (سیاہ و سفید)، سینگوں والے مینڈھے قربانی فرمائے۔ ذبح فرماتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دست مبارک سے انہیں ذبح فرماتے دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدم مبارک ان کے پہلو پر رکھا ہوا تھا۔ (شعبہ نے کہا) میں نے (قتادہ سے) کہا: کیا آپ نے ان (حضرت انس رضی اللہ عنہ) سے سنا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأضاحي 9 (5558)، صحیح مسلم/الأضاحي 3 (1966)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 1 (3120)، (تحفة الأشراف: 1250)، مسند احمد (3/99، 115، 118، 183، 222، 255، 272، 278، سنن الدارمی/الأضاحي 1 (1988)، ویأتي عند المؤلف 4421، 4422) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4421
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَكَانَ يُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے ذبح کرتے اور آپ «بسم اللہ» پڑھتے اور تکبیر بلند کرتے ۱؎، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے انہیں ذبح کر رہے ہیں اور آپ کا پیر ان (کی گردن) کے پہلو پر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4421]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سیاہ و سفید، سینگوں والے مینڈھے ذبح کرتے تھے، آپ «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھتے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دست مبارک سے انہیں ذبح کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں مبارک ان کے پہلو پر رکھا ہوا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4420 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی «بسم اللہ، اللہ اکبر» کہتے تھے، «بسم اللہ الرحمن الرحیم» نہیں کہتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4422
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَقَدْ" رَأَيْتُهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ، يُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ , كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے دو سینگ دار اور چتکبرے مینڈھے ذبح کر رہے ہیں، اور آپ کا پیر ان (کی گردن) کے پہلو پر ہے۔ آپ (ذبح کرتے ہوئے) «بسم اللہ، اللہ اکبر» کہہ رہے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4422]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ دو سیاہ و سفید، سینگوں والے مینڈھوں کو «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھتے ہوئے اپنے دست مبارک سے ذبح فرما رہے تھے اور اپنا قدم مبارک ان کے پہلو پر رکھا ہوا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4420 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن