سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : تفسير ذلك
باب: ملامسہ اور منابذہ کی شرح و تفسیر۔
حدیث نمبر: 4517
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى بْنِ بَهْلُولٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ الزُّبَيْدِيِّ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدًا , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ , وَالْمُنَابَذَةِ , وَالْمُلَامَسَةُ: أَنْ يَتَبَايَعَ الرَّجُلَانِ بِالثَّوْبَيْنِ تَحْتَ اللَّيْلِ يَلْمِسُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمَا ثَوْبَ صَاحِبِهِ بِيَدِهِ , وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ الثَّوْبَ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ إِلَيْهِ الثَّوْبَ فَيَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع منابذہ اور ملامسہ سے منع فرمایا، ملامسہ یہ ہے کہ دو آدمی رات کو دو کپڑوں کی بیع کریں، ہر ایک دوسرے کا کپڑا چھو لے۔ منابذہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی طرف کپڑا پھینکے اور دوسرا اس کی طرف کپڑا پھینکے اور اسی بنیاد پر بیع کر لیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4517]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُنَابَذَةِ» ”منابذہ“ اور «الْمُلَامَسَةِ» ”ملامسہ“ سے منع فرمایا۔ ملامسہ یہ ہے کہ دو آدمی رات کے اندھیرے میں دو کپڑوں کا اس طرح سودا کریں کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے کپڑے کو ہاتھ سے چھوئے، اور منابذہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی طرف کپڑا پھینکے اور دوسرا اس کی طرف کپڑا پھینکے، بس اتنے میں سودا ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13261) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4519
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسَتَيْنِ , وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ , أَمَّا الْبَيْعَتَانِ: فَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ , وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ يَعْنِي الْبَيْعَ , وَالْمُلَامَسَةُ: أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلَا يَنْشُرَهُ وَلَا يُقَلِّبَهُ إِذَا مَسَّهُ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس اور دو قسم کی بیع سے منع فرمایا ہے، رہی دو قسم کی بیع تو وہ ملامسہ اور منابذہ ہیں۔ منابذہ یہ ہے کہ وہ کہے: جب میں اس کپڑے کو پھینکوں تو بیع واجب ہو گئی، اور ملامسہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے چھولے اور جب چھولے تو اسے پھیلائے نہیں اور نہ اسے الٹ پلٹ کرے تو بیع واجب ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4519]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو قسم کے لباس اور دو قسم کے سودوں سے منع فرمایا ہے“۔ سودے تو «الْمُلَامَسَةُ» ”ملامسہ“ اور «الْمُنَابَذَةُ» ”منابذہ“ ہیں۔ «الْمُنَابَذَةُ» ”منابذہ“ یہ ہے کہ بیچنے والا کہے کہ ”جب میں یہ کپڑا پھینک دوں گا، بیع پکی ہو جائے گی“، اور «الْمُلَامَسَةُ» ”ملامسہ“ یہ ہے کہ خریدنے والا کپڑے کو صرف ہاتھ سے چھوئے اور اسے کھول کر الٹ پلٹ کر نہ دیکھے، جب چھو لیا تو سودا پکا ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4516 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري