🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : ذكر الاختلاف على عطاء في هذا الحديث
باب: اس حدیث میں عطاء بن ابی رباح کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4769
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمَّيْهِ سَلَمَةَ , وَيَعْلَى ابْنَيْ أُمَيَّةَ، قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا، فَقَاتَلَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ , فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ , فَجَذَبَهَا مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ، فَقَالَ:" يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ كَعَضِيضِ الْفَحْلِ، ثُمَّ يَأْتِي يَطْلُبُ الْعَقْلَ، لَا عَقْلَ لَهَا، فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سلمہ بن امیہ اور یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، ہمارے ساتھ ایک اور ساتھی تھے وہ کسی مسلمان سے لڑ پڑے، اس نے ان کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، انہوں نے ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیت کا مطالبہ کرنے آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کے پاس جا کر اونٹ کی طرح اسے دانت کاٹتا ہے، پھر دیت مانگنے آتا ہے، ایسے دانت کی کوئی دیت نہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیت نہیں دلوائی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4769]
امیہ کے بیٹوں سلمہ اور یعلی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔ ہمارے ساتھ ہمارا ایک ساتھی بھی تھا۔ وہ کسی دوسرے مسلمان سے لڑ پڑا۔ اس آدمی نے اس کے بازو پر دانت گاڑ دیے۔ اس نے بازو اس کے منہ سے کھینچا تو ساتھ دانت بھی نکل آیا۔ وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور دیت دلوانے کا مطالبہ کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جا کر اس طرح کاٹتا ہے جیسے اونٹ چباتا ہے، پھر آ کر دیت مانگنا شروع کر دیتا ہے؟ اس (طرح کے دانتوں) کی کوئی دیت نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دانت کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدیات 20 (2656)، (تحفة الأشراف: 4554، 11835)، مسند احمد (4/222، 223، 224) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4767
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ , أَنَّهُ قَاتَلَ رَجُلًا , فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ , فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَقَلَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْبَكْرُ" فَأَبْطَلَهَا.
یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سے ان کا جھگڑا ہو گیا ان میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا، پہلے نے اپنا ہاتھ دوسرے کے منہ سے چھڑایا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک لایا گیا، تو آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جوان اونٹ کی طرح کاٹتا ہے پھر آپ نے اسے تاوان نہیں دلایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4767]
حضرت یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک آدمی سے لڑ پڑا۔ ہم میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا اور اس کا دانت اکھیڑ دیا۔ یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے، جیسے اونٹ؟ پھر آپ نے اسے باطل اور لغو قرار دیا۔ (اس کے دانت کا کوئی معاوضہ نہیں دلوایا۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4767]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11847) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4768
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَاتَلَ رَجُلًا , فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا , فَأَلْقَى ثَنِيَّتَهُ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْبَكْرُ" فَأَطَلَّهَا , أَيْ: أَبْطَلَهَا.
یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنی تمیم کے ایک آدمی کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا، تو پہلے نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ کھایا، اس نے اسے کھینچا تو اس کا دانت نکل پڑا، وہ دونوں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جوان اونٹ کی طرح دانت کاٹتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت نہیں دلوائی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4768]
حضرت یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو تمیم کے ایک آدمی نے ایک دوسرے شخص سے لڑائی کی اور اس کے ہاتھ پر دانت گاڑ دیے۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو ساتھ ہی اس کا دانت بھی باہر آگیا۔ وہ یہ جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتے ہو جس طرح اونٹ کاٹتا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باطل قرار دیا، یعنی اس کے دانت کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4770
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ , فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَهْدَرَهَا".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کا ہاتھ کاٹ کھایا تو پہلے شخص کا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو قرار دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4770]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے بازو پر کاٹ کھایا جس سے اس کا سامنے والا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (دیت لینے کے لیے) آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رائیگاں قرار دیا۔ (اس کا کوئی معاوضہ نہیں دلوایا)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإجارة 5 (2265)، الجہاد 20 (2973)، المغازي 78 (4417)، الدیات 18 (6893)، صحیح مسلم/الحدود 4 (1674)، سنن ابی داود/الدیات 24 (4584)، (تحفة الأشراف: 11837)، مسند احمد (4/222، 223، 224)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4771- 4776) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دیت نہیں دلوائی۔
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4771
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى. وَابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى أَنَّهُ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا , فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيَدَعُهَا يَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، اس کی ایک آدمی سے لڑائی ہو گئی، تو اس نے اس کا ہاتھ کاٹ کھایا، چنانچہ اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: کیا وہ اپنا ہاتھ چھوڑ دیتا کہ وہ اسے اونٹ کی طرح چبا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4771]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، وہ کسی آدمی سے لڑ پڑا اور اس کا ہاتھ کاٹ کھایا، ساتھ ہی دانت بھی اکھڑ گیا۔ وہ یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ اپنا ہاتھ (تیرے منہ میں) چھوڑ دیتا کہ تو اسے اونٹ کی طرح چباتا رہتا؟ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4771]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4770 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4772
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا , فَعَضَّ الْآخَرُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَهْدَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا، میں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، پھر میرے نوکر کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی، تو دوسرے نے اسے دانت کاٹ لیا، چنانچہ اس کا دانت اکھڑ گیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لغو قرار دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4772]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ پر گیا تو میں نے ایک شخص نوکر رکھ لیا، پھر میرا نوکر کسی آدمی سے لڑ پڑا، اس آدمی نے اسے کاٹ کھایا حتیٰ کہ اس کا سامنے والا دانت گر گیا، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رائیگاں قرار دیا (اس کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4772]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم 4770 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4773
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَكَانَ أَوْثَقَ عَمَلٍ لِي فِي نَفْسِي , وَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ:" أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا".
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جیش العسرۃ ۱؎ (غزوہ تبوک) میں جہاد کیا، میرے خیال میں یہ میرا بہت اہم کام تھا، میرا ایک نوکر تھا، ایک شخص سے اس کا جھگڑا ہو گیا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کی انگلی کاٹ کھائی، پھر پہلے نے اپنی انگلی کھینچی تو دوسرے آدمی کا دانت نکل کر گر پڑا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نے اس کے دانت کی دیت نہیں دلوائی، اور فرمایا: کیا وہ اپنے ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اسے چباتا رہے؟۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4773]
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تنگی والے لشکر میں گیا اور میرے نزدیک میرا یہ عمل سب سے افضل عمل ہے۔ وہاں میرا ایک نوکر کسی آدمی سے لڑ پڑا۔ ان میں سے کسی ایک نے دوسرے کی انگلی پر دانت گاڑ دیا۔ اس نے جو انگلی کھینچی تو ساتھ ہی دانت بھی اکھڑ آیا۔ دوسرا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی معاوضہ نہ دلوایا بلکہ فرمایا: کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں دیے رکھتا کہ تو اسے چبا ڈالتا؟ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4770 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یہ اس آیت کریمہ: «الذين اتبعوه في ساعة العسرة» سے ماخوذ ہے اور یہ غزوہ تبوک کا دوسرا نام ہے، اس جنگ میں زاد سفر کی بے انتہا قلت تھی اسی لیے اسے ساعۃ العسرۃ کہا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں