سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں عطاء بن ابی رباح کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4769
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمَّيْهِ سَلَمَةَ , وَيَعْلَى ابْنَيْ أُمَيَّةَ، قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا، فَقَاتَلَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ , فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ , فَجَذَبَهَا مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ، فَقَالَ:" يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ كَعَضِيضِ الْفَحْلِ، ثُمَّ يَأْتِي يَطْلُبُ الْعَقْلَ، لَا عَقْلَ لَهَا، فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سلمہ بن امیہ اور یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، ہمارے ساتھ ایک اور ساتھی تھے وہ کسی مسلمان سے لڑ پڑے، اس نے ان کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، انہوں نے ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیت کا مطالبہ کرنے آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کے پاس جا کر اونٹ کی طرح اسے دانت کاٹتا ہے، پھر دیت مانگنے آتا ہے، ایسے دانت کی کوئی دیت نہیں“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیت نہیں دلوائی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4769]
امیہ کے بیٹوں سلمہ اور یعلی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔ ہمارے ساتھ ہمارا ایک ساتھی بھی تھا۔ وہ کسی دوسرے مسلمان سے لڑ پڑا۔ اس آدمی نے اس کے بازو پر دانت گاڑ دیے۔ اس نے بازو اس کے منہ سے کھینچا تو ساتھ دانت بھی نکل آیا۔ وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور دیت دلوانے کا مطالبہ کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جا کر اس طرح کاٹتا ہے جیسے اونٹ چباتا ہے، پھر آ کر دیت مانگنا شروع کر دیتا ہے؟ اس (طرح کے دانتوں) کی کوئی دیت نہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دانت کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدیات 20 (2656)، (تحفة الأشراف: 4554، 11835)، مسند احمد (4/222، 223، 224) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4770
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ , فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَهْدَرَهَا".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کا ہاتھ کاٹ کھایا تو پہلے شخص کا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو قرار دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4770]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے بازو پر کاٹ کھایا جس سے اس کا سامنے والا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (دیت لینے کے لیے) آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”رائیگاں قرار دیا۔“ (اس کا کوئی معاوضہ نہیں دلوایا)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإجارة 5 (2265)، الجہاد 20 (2973)، المغازي 78 (4417)، الدیات 18 (6893)، صحیح مسلم/الحدود 4 (1674)، سنن ابی داود/الدیات 24 (4584)، (تحفة الأشراف: 11837)، مسند احمد (4/222، 223، 224)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4771- 4776) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دیت نہیں دلوائی۔
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4771
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى. وَابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى أَنَّهُ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا , فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيَدَعُهَا يَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، اس کی ایک آدمی سے لڑائی ہو گئی، تو اس نے اس کا ہاتھ کاٹ کھایا، چنانچہ اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ چھوڑ دیتا کہ وہ اسے اونٹ کی طرح چبا جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4771]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، وہ کسی آدمی سے لڑ پڑا اور اس کا ہاتھ کاٹ کھایا، ساتھ ہی دانت بھی اکھڑ گیا۔ وہ یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ (تیرے منہ میں) چھوڑ دیتا کہ تو اسے اونٹ کی طرح چباتا رہتا؟“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4771]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4770 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4772
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا , فَعَضَّ الْآخَرُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَهْدَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا، میں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، پھر میرے نوکر کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی، تو دوسرے نے اسے دانت کاٹ لیا، چنانچہ اس کا دانت اکھڑ گیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لغو قرار دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4772]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ پر گیا تو میں نے ایک شخص نوکر رکھ لیا، پھر میرا نوکر کسی آدمی سے لڑ پڑا، اس آدمی نے اسے کاٹ کھایا حتیٰ کہ اس کا سامنے والا دانت گر گیا، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رائیگاں قرار دیا (اس کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4772]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم 4770 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4773
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَكَانَ أَوْثَقَ عَمَلٍ لِي فِي نَفْسِي , وَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ:" أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا".
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جیش العسرۃ ۱؎ (غزوہ تبوک) میں جہاد کیا، میرے خیال میں یہ میرا بہت اہم کام تھا، میرا ایک نوکر تھا، ایک شخص سے اس کا جھگڑا ہو گیا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کی انگلی کاٹ کھائی، پھر پہلے نے اپنی انگلی کھینچی تو دوسرے آدمی کا دانت نکل کر گر پڑا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نے اس کے دانت کی دیت نہیں دلوائی، اور فرمایا: ”کیا وہ اپنے ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اسے چباتا رہے؟“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4773]
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تنگی والے لشکر میں گیا اور میرے نزدیک میرا یہ عمل سب سے افضل عمل ہے۔ وہاں میرا ایک نوکر کسی آدمی سے لڑ پڑا۔ ان میں سے کسی ایک نے دوسرے کی انگلی پر دانت گاڑ دیا۔ اس نے جو انگلی کھینچی تو ساتھ ہی دانت بھی اکھڑ آیا۔ دوسرا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی معاوضہ نہ دلوایا بلکہ فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں دیے رکھتا کہ تو اسے چبا ڈالتا؟“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4770 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یہ اس آیت کریمہ: «الذين اتبعوه في ساعة العسرة» سے ماخوذ ہے اور یہ غزوہ تبوک کا دوسرا نام ہے، اس جنگ میں زاد سفر کی بے انتہا قلت تھی اسی لیے اسے ساعۃ العسرۃ کہا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4774
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ , فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيه بِمِثْلِ الَّذِي عَضَّ، فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا دِيَةَ لَكَ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے اس جیسے شخص جس نے دانت کاٹا ہو اور اس کا دانت اکھڑ گیا ہو کے بارے میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے دیت نہیں ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4774]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں جس نے ساتھی کو کاٹ کھایا تھا اور اس کا دانت اکھڑ گیا تھا، سابقہ روایت کی طرح بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تجھے کوئی دیت نہیں ملے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4774]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4769 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4775
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ: أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ عَضَّ آخَرُ ذِرَاعَهُ فَانْتَزَعَهَا مِنْ فِيهِ، فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَدْ سَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" أَيَدَعُهَا فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ".
صفوان بن یعلیٰ بن منیہ (امیہ) سے روایت ہے کہ یعلیٰ بن منیہ (امیہ) رضی اللہ عنہ کے ایک نوکر کو ایک دوسرے شخص نے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، اس (نوکر) نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا، یہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا اور حال یہ تھا کہ اس آدمی کا دانت اکھڑ کر گر گیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لغو قرار دیا، اور فرمایا: ”کیا وہ تمہارے منہ میں اسے چھوڑ دیتا تاکہ تم اسے اونٹ کی طرح چبا جاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4775]
حضرت صفوان بن یعلی بن منیہ سے روایت ہے کہ میرے والد حضرت یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ کے ایک نوکر کے بازو پر ایک دوسرے شخص نے دانت گاڑ دیے۔ اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کا دانت گر گیا۔ یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش ہوا تو آپ نے اس دانت کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا بلکہ فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رکھ چھوڑتا کہ تو اسے اونٹ کی طرح چباتا رہتا؟“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4775]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4770 (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4776
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى: أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَاسْتَأْجَرَ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا , فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ , فَلَمَّا أَوْجَعَهُ نَتَرَهَا فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَعَضُّ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ" فَأَبْطَلَ ثَنِيَّتَهُ.
صفوان بن یعلیٰ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، انہوں نے ایک نوکر رکھ لیا تھا، اس کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا تو اس آدمی نے اس (نوکر) کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، جب اسے تکلیف ہوئی تو اس نے اسے زور سے کھینچا، تو اس (آدمی) کا دانت نکل پڑا، یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے بھائی کو چبائے جیسے اونٹ چباتا ہے؟“ چنانچہ آپ نے دانت کی دیت نہیں دلوائی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4776]
حضرت صفوان بن یعلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میرے والد (حضرت یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ) غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔ وہ ساتھ ایک نوکر بھی لے گئے۔ وہ کسی آدمی سے لڑ پڑا۔ اس آدمی نے اس کی کلائی پر کاٹ لیا۔ جب اس کو تکلیف ہوئی تو اس نے زور سے ہاتھ کھینچا، ساتھ ہی دانت بھی اکھڑ آیا۔ یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف بڑھتا ہے اور اس کو اس طرح کاٹ کھاتا ہے جیسے اونٹ چباتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4776]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4769 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن