سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب : دية جنين المرأة
باب: عورت کے پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4823
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى , فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا،" فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا۔ جس سے اس کا حمل ساقط ہو گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4823]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا اور اس کا حمل گرا دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت «غُرَّة» ”غرہ“ مقرر کی، یعنی ”ایک غلام یا لونڈی“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4823]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 46 (5759)، الدیات (6904)، صحیح مسلم/القسامة 11 (1681)، (تحفة الأشراف: 15245، 18727) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4821
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی عورت کے جنین (پیٹ میں موجود بچہ) کے بارے میں جو مرا ہوا ساقط ہو گیا تھا ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ کیا، پھر وہ عورت جس پر ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی کا حکم ہوا، مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی میراث اس کے بیٹوں اور اس کے شوہر کے لیے ہے اور دیت اس کے عصبہ پر ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4821]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی ایک عورت کے پیٹ کے بچے کے بارے میں جو (چوٹ کی وجہ سے) ساقط ہو کر مر گیا تھا، فیصلہ فرمایا کہ ”اس کی دیت «غُرَّةٌ» ”غرہ“ ہو گی، یعنی غلام یا لونڈی۔“ پھر جس عورت کے لیے (جس کے بچے کی دیت کی بابت) غرہ کا فیصلہ کیا تھا، وہ مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ ”اس کی وراثت اس کے بیٹوں اور خاوند کو ملے گی اور اس (قاتلہ) کے ذمے واجب الادا دیت اس (قاتلہ) کے عصبہ کے ذمے ہو گی۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 46 (5758)، الفرائض 11 (6740)، الدیات 25 (6909)، صحیح مسلم/القسامة (الحدود11) (1681)، سنن ابی داود/الدیات 21 (4576، 4577)، سنن الترمذی/الدیات 15 (1410)، الفرائض 19 (2111)، سنن ابن ماجہ/الدیات 11 (2639)، (تحفة الأشراف: موطا امام مالک/العقول 7 (5)، مسند احمد (2/ 539) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4822
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا فَقَتَلَتْهَا، وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ، أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ"، فَقَالَ: حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ أُغَرَّمُ مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلْ، وَلَا نَطَقَ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں جھگڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک مارا، اور کوئی ایسی بات کہی جس کا مفہوم یہ تھا کہ وہ عورت مر گئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی، چنانچہ وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا: اس کے جنین (پیٹ کے بچہ) کی دیت ایک غرہ ہے یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی۔ اور (قاتل) عورت کی دیت اس کے کنبے کو لوگوں (عصبہ) سے دلائی اور اس عورت کا وارث اس کے بیٹوں اور دوسرے ورثاء کو قرار دیا، تو حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا تاوان کیسے ادا کروں جس نے نہ پیا نہ کھایا، جو نہ بولا نہ چلایا، ایسا خون تو لغو ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کاہنوں کا بھائی ہے“ (یہ بات آپ نے اس کی اس قافیہ دار بات چیت کی وجہ سے جو اس نے کی)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4822]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں، ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا، نتیجتاً اسے بھی قتل کر دیا اور اس کے پیٹ کے بچے کو بھی۔ وہ (ورثاء) یہ جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ پیٹ کے بچے کی دیت «غُرَّةٌ» ”غرہ“ ہے، یعنی ایک غلام یا لونڈی، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ (قاتلہ) عورت کے ذمے واجب الادا دیت اس کے عصبہ بھریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (مقتولہ) کی اولاد اور دیگر ورثاء کو اس کا وارث بنایا۔ حضرت حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیسے اس (بچے) کی دیت بھروں جس نے نہ پیا نہ کھایا، نہ بولا نہ چلایا؟ اس جیسا (بچہ) تو ضائع اور لغو (بلا دیت) ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ» ”یہ تو کاہنوں میں سے ایک کاہن محسوس ہوتا ہے۔“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی) اس لیے کہ اس نے مسجع کلام کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدیات 26 (6910)، صحیح مسلم/القسامة 11 (1681)، سنن ابی داود/الدیات 21 (4576)، (تحفة الأشراف: 13320، 15308) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه