سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب : الرخصة في السواك بالعشي للصائم
باب: روزہ دار کے لیے شام کے وقت مسواک کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت کے لیے باعث مشقت نہ سمجھتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 7]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اپنی امت پر مشقت ڈال دوں گا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 7]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 8 (887)، موطا امام مالک/الطھارة: 32 (114)، (تحفة الأشراف: 13842)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 15 (252)، سنن ابی داود/ فیہ 25 (46)، سنن الترمذی/ فیہ 18 (22)، سنن ابن ماجہ/فیہ 7 (287)، موطا امام مالک/فیہ32 (114)، مسند احمد 2/245، 250، 399، 400، سنن الدارمی/الطہارة 17 (710)، یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ فرمائیں 535 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وجوبی حکم دیتا، رہا مسواک کا ہر نماز کے وقت مسنون ہونا تو وہ ثابت ہے، اور باب سے مناسبت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم عام ہے، صائم اور غیر صائم دونوں کو شامل ہے، اسی طرح صبح، دوپہر اور شام سبھی وقتوں کو شامل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 6
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے مسواک کے سلسلے میں تم لوگوں سے بارہا کہا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 6]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق میں نے مسواک کے بارے میں تمہیں بہت تاکید کی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 6]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 8 (888) (تحفة الأشراف: 914)، مسند احمد (3 / 143، 249)، سنن الدارمی/الطہارة 18 (709) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «أكثرت» بصیغہ مجہول بھی منقول ہے یعنی مجھے بارہا یہ حکم دیا گیا کہ میں تمہیں باربار مسواک کرنے کی تاکید کروں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 532
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَتَمَةَ إِمَامًا أَوْ خِلْوًا؟ قال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا. فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ، قَالَ: وَأَشَارَ، فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، فَأَوْمَأَ إِلَيَّ، كَمَا أَشَارَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ بِشَيْءٍ مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَهَا فَانْتَهَى أَطْرَافُ أَصَابِعِهِ إِلَى مُقَدَّمِ الرَّأْسِ، ثُمَّ ضَمَّهَا يَمُرُّ بِهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامَاهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ الْجَبِينِ لَا يُقَصِّرُ وَلَا يَبْطُشُ شَيْئًا إِلَّا كَذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ لَا يُصَلُّوهَا إِلَّا هَكَذَا".
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا: عشاء کی امامت کرنے یا تنہا پڑھنے کے لیے کون سا وقت آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم کو کہتے سنا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء مؤخر کی یہاں تک کہ لوگ سو گئے، (پھر) بیدار ہوئے (پھر) سو گئے، (پھر) بیدار ہوئے، تو عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہنے لگے: صلاۃ! صلاۃ! تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔ گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ اپنا ہاتھ سر کے ایک حصہ پر رکھے ہوئے تھے۔ راوی (ابن جریج) کہتے ہیں: میں نے عطاء سے جاننا چاہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر کیسے رکھا؟ تو انہوں نے مجھے اشارہ کے ذریعہ بتایا جیسا کہ ابن عباس نے انہیں اشارہ سے بتایا تھا، عطاء نے اپنی انگلیوں کے درمیان تھوڑا فاصلہ کیا، پھر اسے رکھا یہاں تک کہ ان کی انگلیوں کے سرے سر کے اگلے حصہ تک پہنچ گئے، پھر انہیں ملا کر سر پر اس طرح گزارتے رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھے کان کے کناروں کو جو چہرہ سے ملا ہوتا ہے چھو لیتے، پھر کنپٹی اور پیشانی کے کناروں پر پھیرتے، نہ دیر کرتے نہ جلدی سوائے اتنی تاخیر کے - پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت کے لیے دشوار نہیں سمجھتا تو انہیں حکم دیتا کہ وہ اسی قدر تاخیر سے عشاء پڑھیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 532]
جناب ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا: ”کون سا وقت آپ زیادہ مناسب سمجھتے ہیں کہ میں اس میں عشاء کی نماز پڑھوں، خواہ امام ہوں یا اکیلا؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کو مؤخر کیا حتیٰ کہ لوگ سوگئے، پھر جاگے (مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تشریف نہ لائے تھے، لہٰذا) پھر سوگئے، پھر جاگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر پکارا: (اے اللہ کے رسول!) ”نماز! نماز!“ (نماز کے لیے تشریف لائیے!)“ عطاء رحمہ اللہ نے کہا: ”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سر کی ایک جانب رکھا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا۔“ (ابن جریج نے کہا:) میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک کس طرح سر پر رکھا ہوا تھا؟ عطاء رحمہ اللہ نے میرے سامنے اس طرح اشارہ کیا جس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ عطاء رحمہ اللہ نے اپنی انگلیاں کچھ کھولیں، پھر انہیں سر پر رکھا کہ آپ کی انگلیوں کے کنارے سر کے اگلے حصے تک پہنچتے تھے، پھر انہوں نے اپنی انگلیاں ملالیں اور انہیں اس طرح سر پر سے گزارا کہ آپ کے انگوٹھے کان کے اس کنارے کو لگے جو چہرے کی جانب ہے، پھر کنپٹی اور ماتھے کے کنارے کو لگے۔ وہ ذرہ بھر بھی کمی بیشی نہ کرتے تھے بلکہ بالکل اسی طرح، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں حکم دیتا کہ وہ ضرور اسی وقت نماز پڑھا کریں۔“ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 24 (571)، والتمنی 9 (7239)، صحیح مسلم/المساجد 39 (642)، (تحفة الأشراف: 5915)، مسند احمد 1/221، 366، سنن الدارمی/الصلاة 19 (1251) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 533
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: أَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَادَى: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَاءُ يَقْطُرُ مِنْ رَأْسِهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" إِنَّهُ الْوَقْتُ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا (ایک حصہ) گزر گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اور آواز دی: اللہ کے رسول! صلاۃ! عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ فرما رہے تھے: ”یہی (مناسب اور پسندیدہ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا“ (تو اسے انہیں اسی وقت پڑھنے کا حکم دیتا)۔ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 533]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز مؤخر کی حتیٰ کہ رات کا کافی حصہ گزر گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے پکارا: ”اے اللہ کے رسول! نماز کے لیے تشریف لائیے۔ عورتیں اور بچے سو گئے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو پانی کے قطرے آپ کے سر سے گر رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے: ”یہ ہے عشاء کی نماز کا اصل وقت، اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خطرہ نہ ہوتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 535
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ وَبِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت کے لیے شاق نہ سمجھتا تو انہیں عشاء کو مؤخر کرنے، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 535]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں عشاء کی نماز مؤخر کرنے اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطھارة 15 (252) مختصراً، سنن ابی داود/الطھارة 25 (46) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الطھارة 7 (287) مختصراً، الصلاة 8 (690) مختصراً، موطا امام مالک/الطھارة 32 (114)، مسند احمد 2/245، 250، 259، 287، 400، 429، 433، 460، 509، 517، 531، سنن الدارمی/الصلاة 168 (1525)، (تحفة الأشراف: 13673) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 537
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وأَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومِ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قالت: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى، وَقَالَ:" إِنَّهُ لَوَقْتُهَا، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا بہت سا حصہ گزر گیا، اور مسجد کے لوگ سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور نماز پڑھائی، اور فرمایا: ”یہی (اس نماز کا پسندیدہ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا“ (تو اسے اس کا حکم دیتا)۔ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 537]
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز کو مؤخر فرمایا حتیٰ کہ بہت رات گزر گئی اور مسجد والے (خصوصاً عورتیں اور بچے) سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نماز پڑھائی اور فرمایا: ”بلاشبہ یہی ہے اس کا (اصل) وقت اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خطرہ نہ ہوتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 39 (638)، (تحفة الأشراف: 17984)، حصحیح مسلم/6 (150)، سنن الدارمی/الصلاة 19 (1250) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 643
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصُّبْحِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَخَّرَ الْفَجْرَ حَتَّى أَسْفَرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا وَقْتُ الصَّلَاةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک پوچھنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر کی اذان کا وقت پوچھا، تو آپ نے بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے فجر طلوع ہونے کے بعد اذان دی، پھر جب دوسرا دن ہوا تو انہوں نے فجر کو مؤخر کیا یہاں تک کہ خوب اجالا ہو گیا، پھر آپ نے انہیں (اقامت کا) حکم دیا، تو انہوں نے اقامت کہی، اور آپ نے نماز پڑھائی پھر فرمایا: ”یہ ہے فجر کا وقت“۔ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 643]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صبح کے وقت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے (پہلے دن) بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ انہوں نے اذان کہی جونہی فجر طلوع ہوئی۔ جب اگلا دن ہوا تو آپ نے فجر کی نماز کو مؤخر کیا حتیٰ کہ خوب روشنی ہوگئی، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی، پھر آپ نے نماز پڑھائی۔ پھر فرمایا: ”یہ ہے نماز صبح کا وقت (یعنی کل اور آج کی نمازوں کے درمیان)۔“ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 815)، مسند احمد 3/121 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن