🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب : إقامة الصفوف قبل خروج الإمام
باب: امام کے نکلنے سے پہلے صفوں کی درستگی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 810
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقُمْنَا فَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَانْصَرَفَ فَقَالَ:" لَنَا مَكَانَكُمْ" فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا قَدِ اغْتَسَلَ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً فَكَبَّرَ وَصَلَّى.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو ہم کھڑے ہوئے، اور صفیں اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلیں درست کر لی گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے یہاں تک کہ جب آپ اپنی نماز پڑھانے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہو گئے تو اس سے پہلے کہ کے آپ تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہیں ہماری طرف پلٹے، اور فرمایا: تم لوگ اپنی جگہوں پہ رہو، تو ہم برابر کھڑے آپ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ہماری طرف آئے، آپ غسل کئے ہوئے تھے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، تو آپ نے تکبیر (تحریمہ) کہی، اور صلاۃ پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 810]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جماعت کی اقامت ہو گئی تو ہم کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل صفیں درست کر لی گئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، حتیٰ کہ جب اپنی نماز گاہ میں کھڑے ہو گئے تو تکبیرِ تحریمہ سے قبل ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑے اور ہم سے فرمایا: اپنی جگہ کھڑے رہو۔ ہم کھڑے انتظار کرتے رہے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہائے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ مبارک سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیرِ تحریمہ کہی اور نماز پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 17 (275)، صحیح مسلم/المساجد 29 (605)، سنن ابی داود/الطہارة 94 (235)، (تحفة الأشراف: 15309)، مسند احمد 2/518 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 793
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَالْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ" وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ فَقَالَ لِلنَّاسِ مَكَانَكُمْ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَنْطِفَ رَأْسُهُ فَاغْتَسَلَ وَنَحْنُ صُفُوفٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی، تو لوگوں نے اپنی صفیں درست کیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے سے نکل کر نماز پڑھنے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہوئے، پھر آپ کو یاد آیا کہ غسل نہیں کیا ہے ۱؎ تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: تم اپنی جگہوں پر رہو، پھر آپ واپس اپنے گھر گئے پھر نکل کر ہمارے پاس آئے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 793]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز کی اقامت ہوگئی، لوگوں نے صفیں درست کر لیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے، حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے پر کھڑے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آیا کہ میں نے (فرض) غسل نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے۔ واپس لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرے گر رہے تھے (یعنی غسل فرما کر آئے تھے) جبکہ ہم اسی طرح صفوں میں کھڑے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 793]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 25 (639، 640)، صحیح مسلم/المساجد 29 (605)، سنن ابی داود/الطھارة 94 (235)، الصلاة 46 (541)، (تحفة الأشراف: 15200)، مسند احمد 2/237، 259، 283، 338، 339 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ آپ نے ابھی نماز شروع نہیں کی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں