الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
Chapters on Food
17. بَابُ : الاِجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ
17. باب: ایک ساتھ کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3287
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا الحسن بن علي الخلال ، حدثنا الحسن بن موسى ، حدثنا سعيد بن زيد ، حدثنا عمرو بن دينار قهرمان آل الزبير، قال: سمعت سالم بن عبد الله بن عمر ، قال: سمعت ابي ، يقول: سمعت عمر بن الخطاب ، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" كلوا جميعا ولا تفرقوا، فإن البركة مع الجماعة".
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مَعَ الْجَمَاعَةِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب مل کر کھانا کھاؤ، اور الگ الگ ہو کر مت کھاؤ، اس لیے کہ برکت سب کے ساتھ مل کر کھانے میں ہے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10535، ومصباح الزجاجة: 1127) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (عمرو بن دینار قہرمان آل الزبیر نے سالم سے منکر احادیث روایت کی ہے، اس لئے حدیث ضعیف ہے، لیکن پہلا جملہ «كلوا جميعا ولا تفرقوا» ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2691، تراجع الألبانی: رقم: 361)

قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا والجملة الأولى ثابتة

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (3255)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
حدیث نمبر: 3255
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا الحسن بن علي الخلال ، حدثنا الحسن بن موسى ، حدثنا سعيد بن زيد ، حدثنا عمرو بن دينار قهرمان آل الزبير، قال: سمعت سالم بن عبد الله بن عمر ، عن ابيه ، عن جده عمر بن الخطاب ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن طعام الواحد يكفي الاثنين، وإن طعام الاثنين يكفي الثلاثة والاربعة، وإن طعام الاربعة يكفي الخمسة والستة".
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَإِنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ، وَإِنَّ طَعَامَ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الْخَمْسَةَ وَالسِّتَّةَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے، دو کا کھانا تین اور چار کے لیے کافی ہوتا ہے، اور چار کا کھانا پانچ اور چھ کے لیے کافی ہوتا ہے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10535، ومصباح الزجاجة: 1118) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں عمرو بن دینار ہیں، جنہوں نے سالم سے منکر احادیث روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 561)

قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف
إسناده ضعيف
عمرو بن دينار قھرمان آل الزبير ضعيف
و الحديث السابق (الأصل: 3255) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.