قرآن مجيد
سورة المؤمنون
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
101 |
پھر جب صور میں پھونکا جائے گا تو اس دن ان کے درمیان نہ کوئی رشتے ہوں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔
|
|
102 |
پھر وہ شخص جس کے پلڑے بھاری ہوگئے تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
103 |
اور وہ شخص جس کے پلڑے ہلکے ہوگئے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنی جانوں کا نقصان کیا، جہنم ہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
104 |
ان کے چہروں کو آگ جھلسائے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھانے والے ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
105 |
کیا میری آیتیں تم پر پڑھی نہ جاتی تھیں، تو تم انھیں جھٹلایا کرتے تھے؟
|
|
106 |
وہ کہیں گے اے ہمارے رب! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
107 |
اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم دوبارہ ایسا کریں تو یقینا ہم ظالم ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
108 |
فرمائے گا اس میں دور دفع رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔
|
|
109 |
بے شک حقیقت یہ ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، سو تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
110 |
تو تم نے انھیں مذاق بنالیا، یہاں تک کہ انھوں نے تم کو میری یاد بھلا دی اور تم ان سے ہنسا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
111 |
بے شک میں نے انھیں آج اس کے بدلے جو انھوں نے صبر کیا، یہ جزا دی ہے کہ بے شک وہی کامیاب ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
112 |
فرمائے گا تم زمین میں سالوں کی گنتی میں کتنی مدت رہے؟
|
|
113 |
وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے، سو شمار کرنے والوں سے پوچھ لے۔
|
ابن کثیر ↑
|
114 |
فرمائے گا تم نہیں رہے مگر تھوڑا ہی، کاش کہ واقعی تم جانتے ہوتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
115 |
تو کیا تم نے گمان کر لیا کہ ہم نے تمھیں بے مقصد ہی پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟
|
ابن کثیر ↑
|
116 |
پس بہت بلند ہے اللہ، جو سچا بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، عزت والے عرش کا رب ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
117 |
اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے، جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں تو اس کا حساب صرف اس کے رب کے پاس ہے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے۔
|
|
118 |
اور تو کہہ اے میرے رب! بخش دے اور رحم کر اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|