قرآن مجيد
سورة الطور
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
قسم ہے طور کی!
|
|
2 |
اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے!
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
ایسے ورق میں جو کھلا ہوا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
اور آباد گھر کی!
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
اور اونچی اٹھائی ہوئی چھت کی!
|
ابن کثیر ↑
|
6 |
اور لبا لب بھرے ہوئے سمندر کی!
|
ابن کثیر ↑
|
7 |
کہ یقینا تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے ۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
9 |
جس دن آسمان لرزے گا، سخت لرزنا۔
|
ابن کثیر ↑
|
10 |
اور پہاڑ چلیں گے، بہت چلنا۔
|
ابن کثیر ↑
|
11 |
تو اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
12 |
وہ جو فضول بحث میں کھیل رہے ہیں۔
|
|
13 |
جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، سخت دھکیلا جانا۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
15 |
تو کیا یہ جادو ہے، یا تم نہیں دیکھ رہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
16 |
اس میں داخل ہو جاؤ، پھر صبر کرو یا صبر نہ کرو، تم پر برابر ہے، تمھیں صرف اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
17 |
بے شک متقی لو گ باغوں اور بڑی نعمت میں ہیں۔
|
|
18 |
لطف اٹھانے والے اس سے جو ان کے رب نے انھیں دیا اور ان کے رب نے انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا لیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
کھاؤ اور پیو خوب مزے سے، اس کے بدلے جو تم کیا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
20 |
ایسے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جو قطاروں میں بچھائے ہوئے ہیں اور ہم نے ان کا نکاح سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتوں سے کر دیا، جو بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
21 |
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد کسی بھی درجے کے ایمان کے ساتھ ان کے پیچھے چلی، ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان سے ان کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے، ہر آدمی اس کے عوض جو اس نے کمایا گروی رکھا ہوا ہے۔
|
|
22 |
اور ہم انھیں پھل اور گوشت زیادہ دیں گے اس میں سے جو وہ چاہیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
وہ اس میںایک دوسرے سے شراب کا پیالہ چھینیں جھپٹیں گے، جس میں نہ بے ہودہ گوئی ہو گی اور نہ گناہ میں ڈالنا۔
|
ابن کثیر ↑
|
24 |
اور ان پر چکر لگاتے رہیں گے انھی کے لڑکے، جیسے وہ چھپائے ہوئے موتی ہوں۔
|
|
25 |
اور ان کے بعض بعض پر متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کرتے ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
26 |
کہیں گے بلاشبہ ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرنے والے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
27 |
پھر اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں زہریلی لو کے عذاب سے بچا لیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
28 |
بے شک ہم اس سے پہلے ہی اسے پکارا کرتے تھے، بے شک وہی تو بہت احسان کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
29 |
پس نصیحت کر، کیونکہ تو اپنے رب کی مہربانی سے ہرگز نہ کسی طرح کاہن ہے اور نہ کوئی دیوانہ۔
|
|
30 |
یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں؟
|
ابن کثیر ↑
|
31 |
کہہ دے انتظار کرو، پس بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
32 |
یا انھیںان کی عقلیں اس بات کا حکم دیتی ہیں، یا وہ خود ہی حد سے گزرنے والے لوگ ہیں؟
|
ابن کثیر ↑
|
33 |
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے یہ خود گھڑ لیا ہے؟ بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
پس وہ اس جیسی ایک ہی بات بنا کر لے آئیں، اگر سچے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
35 |
یا وہ کسی چیز کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں، یا وہ (خود) پیدا کرنے والے ہیں؟
|
|
36 |
یا انھوں نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ وہ یقین نہیں کرتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
37 |
یا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں، یا وہی حکم چلانے والے ہیں ؟
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر وہ اچھی طرح سن لیتے ہیں؟تو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل پیش کرے۔
|
ابن کثیر ↑
|
39 |
یا اس کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
یا تو ان سے کوئی اجرت مانگتا ہے؟ پس وہ تاوان سے بوجھل کیے جانے والے ہیں ۔
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
یا ان کے پاس غیب ہے؟ پس وہ لکھتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
42 |
یا وہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ تو جن لوگوں نے کفر کیا وہی چال میں آنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
43 |
یا ان کا اللہ کے سوا کوئی معبود ہے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
44 |
اور اگر وہ آسمان سے گرتاہو ا کوئی ٹکڑا دیکھ لیں تو کہہ دیں گے یہ ایک تہ بہ تہ بادل ہے۔
|
|
45 |
پس انھیں چھوڑ دے، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن کو جا ملیں جس میں وہ بے ہوش کیے جائیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
46 |
جس دن نہ ان کی چال ان کے کسی کام آئے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔
|
ابن کثیر ↑
|
47 |
اور یقینا ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، اس (آخرت) سے پہلے بھی ایک عذاب ہے، اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
|
|
48 |
اور اپنے رب کا حکم آنے تک صبر کر، پس بے شک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کر جب توکھڑا ہو۔
|
|
49 |
اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کی تسبیح کر اور ستاروں کے جانے کے بعد بھی۔
|
ابن کثیر ↑
|