کیا لوگوں کے لیے ایک عجیب بات ہوگئی کہ ہم نے ان میں سے ایک آدمی کی طرف وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈرا اور جو لوگ ایمان لائے انھیں بشارت دے کہ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سچا مرتبہ ہے۔ کافروں نے کہا بے شک یہ تو کھلا جادوگر ہے۔[2]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اَکَانَ
لِلنَّاسِ
عَجَبًا
اَنۡ
اَوۡحَیۡنَاۤ
اِلٰی رَجُلٍ
مِّنۡہُمۡ
اَنۡ
اَنۡذِرِ
النَّاسَ
وَبَشِّرِ
الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡۤا
اَنَّ
لَہُمۡ
قَدَمَ
صِدۡقٍ
عِنۡدَ
رَبِّہِمۡ
قَالَ
الۡکٰفِرُوۡنَ
اِنَّ
ہٰذَا
لَسٰحِرٌ
مُّبِیۡنٌ
کیا ہے
لوگوں کے لیے
عجیب بات
کہ
وحی کی ہم نے
طرف ایک شخص کے
ان میں سے
کہ
ڈرائیے
لوگوں کو
اور خوش خبری دے دیجیے
انہیں جو
ایمان لائے
کہ بیشک
ان کے لیے
مرتبہ ہے
سچا
پاس
ان کے رب کے
کہا
کافروں نے
بیشک
یہ
البتہ جادوگر ہے
کھلم کھلا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اَکَانَ
لِلنَّاسِ
عَجَبًا
اَنۡ
اَوۡحَیۡنَاۤ
اِلٰی
رَجُلٍ
مِّنۡہُمۡ
اَنۡ
اَنۡذِرِ
النَّاسَ
وَبَشِّرِ
الَّذِیۡنَ
اٰمَنُوۡۤا
اَنَّ
لَہُمۡ
قَدَمَ
صِدۡقٍ
عِنۡدَ
رَبِّہِمۡ
قَالَ
الۡکٰفِرُوۡنَ
اِنَّ
ہٰذَا
لَسٰحِرٌ
مُّبِیۡنٌ
کیا ہے
لوگوں کے لیے
ایک عجیب بات
کہ
ہم نے وحی کی
طرف
ایک آدمی کے
اُن ہی میں سے
یہ کہ
آپ خبردار کردیں
لوگوں کو
اور آپ بشارت دے دو
ان لوگوں کو جو
ایمان لائے
یقیناً
ان کے لیے
مرتبہ ہے
سچا
پاس
ان کےر ب کے
کہا
کافروں نے
بیشک
یہ
ضرور جادوگر ہے
کھلا
حافظ نذر احمد حفظه الله
اَكَانَ
لِلنَّاسِ
عَجَبًا
اَنْ
اَوْحَيْنَآ
اِلٰى
رَجُلٍ
مِّنْھُمْ
اَنْ
اَنْذِرِ
النَّاسَ
وَبَشِّرِ
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا
اَنَّ
لَھُمْ
قَدَمَ
صِدْقٍ
عِنْدَ
رَبِّهِمْ
قَالَ
الْكٰفِرُوْنَ
اِنَّ
ھٰذَا
لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ
کیا ہوا
لوگوں کو
تعجب
کہ
ہم نے وحی بھیجی
طرف۔ پر
ایک آدمی
ان سے
کہ
وہ ڈراتے
لوگ
اور خوشخبری دے
جو لوگ ایمان لائے (ایمان والے)
کہ
ان کے لیے
پایہ
سچا
پاس
ان کا رب
بولے
کافر (جمع)
بیشک
یہ
کھلا جادوگر
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّمَ:قَدَّمَ اور اَسْلَفَ میں وہی فرق ہے جو ارتفاع اور عمق میں ہے اگر نیچے کے کنارے پر ہوں تو اسی راسی فاصلہ کو بلندی کو کہتے ہیں اوپر کے کنارے پر کھڑے ہوں تو وہی فاصلہ گہرائ یہ عمق کہلاتا ہے وہی بات یا کام جو قدّم کا مفہوم سے موقع کے لحاظ سے وہی اسلف بن جاتا ہے ۔